امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دوبارہ مذاکرات میں دلچسپی نہ لینے کا عندیہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز پر بحری ناکا بندی کی دھمکی دی ہے۔
مزید پڑھیں
مبصرین کے مطابق واشنگٹن کی اس حکمت عملی کا مقصد ایران کو خام تیل کی فروخت سے روک کر معاشی دباؤ میں لانا ہے۔
یاد رہے کہ پچھلی صدیوں میں بہت سے ممالک نے بحری ناکابندیاں کیں، جن کا مقصد مخالف ملک کی معیشت کو مفلوج کرنا اور ضروری سامان کی رسائی سے روکنا تھا۔
اس حوالے سے کیوبا کے علاوہ جس کی ناکابندی 1962 میں سوویت
میزائل بحران کی وجہ سے کر دی گئی تھی، تاریخ میں دیگر ممالک مثلاً برطانیہ، جرمنی اور امریکہ بھی شامل ہیں۔
نپولین بوناپارٹ اور براعظمی ناکا بندی
1805ء میں برطانوی بحریہ سے ٹرافالگر کی جنگ میں شکست کے بعد نپولین بوناپارٹ نے برطانیہ کو براہ راست فتح کرنے کے بجائے معاشی طور پر کمزور کرنے کا فیصلہ کیا۔
21 نومبر 1806ء کو جاری کردہ ’برلن فرمان‘ کے تحت برطانیہ کے ساتھ تجارت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔
نپولین نے تمام یورپی ممالک کو اپنی بندرگاہیں برطانوی جہازوں کے لیے بند کرنے پر مجبور کیا، تاہم 1812ء میں روس میں فرانسیسی فوج کی شکست کے بعد یہ ناکابندی کمزور پڑ گئی اور 1814ء تک یہ مکمل طور پر ناکام ہو کر بکھر چکی تھی۔
امریکی خانہ جنگی اور ’ایناکونڈا‘ منصوبہ
1861ء میں شروع ہونے والی امریکی خانہ جنگی کے دوران شمالی ریاستوں نے جنوبی ریاستوں کو گھیرنے کے لیے ’ایناکونڈا پلان‘ اپنایا تھا۔
اس کا مقصد سمندری راستوں کی ناکابندی کر کے جنوبی علاقوں کی کپاس کی برآمد اور ہتھیاروں کی درآمد کو مکمل طور پر روکنا تھا۔
اس ناکابندی نے جنوب کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا، جس سے خوراک اور ہتھیاروں کی قلت پیدا ہوئی۔ قیمتیں آسمان کو پہنچ گئیں۔
معاشی تنہائی کے باعث بالآخر 1865ء میں جنوبی ریاستوں نے ہتھیار ڈال دیے، جو ایک موثر بحری حکمت عملی کی مثال ہے۔
پہلی جنگ عظیم: جرمنی کا معاشی گھیراؤ
پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانوی رائل نیوی نے جرمنی کو درکار خام تیل، کوئلہ، لوہا اور ربڑ کی سپلائی روکنے کے لیے بحیرہ شمال میں سخت ناکابندی کی۔
اس دوران غیرجانبدار ممالک کے جہازوں کی بھی تلاشی لی گئی تاکہ جرمنی تک اشیائے خورونوش نہ پہنچ سکیں۔
اس ناکابندی کے نتیجے میں جرمنی میں قحط کی صورتحال پیدا ہوئی، جس سے لاکھوں افراد بھوک اور بیماریوں سے ہلاک ہوئے۔
جواب میں جرمنی نے اپنی آبدوزوں کے ذریعے برطانیہ جانے والے تجارتی جہازوں پر جوابی حملے شروع کیے، جس سے جنگی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
دوسری جنگ عظیم: جاپان کے خلاف ’آپریشن اسٹارویشن‘
1945ء کے اوائل میں امریکہ نے بحر الکاہل میں جنگ کا فیصلہ کن رُخ موڑنے کے لیے جاپان کے خلاف ’آپریشن اسٹارویشن‘ شروع کیا۔
امریکی طیاروں نے جاپانی بندرگاہوں پر 10 ہزار سے زائد سمندری بارودی سرنگیں بچھائیں تاکہ اہم تجارتی راستے بند کیے جا سکیں۔
اس اقدام سے جاپان کے تقریباً 670 بحری جہاز تباہ ہوئے، جس سے فوج کی نقل و حرکت اور جنگی صنعت کے لیے ضروری خام مال کی فراہمی منقطع ہو گئی۔
اس حکمت عملی نے جاپان کی پیداواری صلاحیت کو مفلوج کر کے اسے شکست تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔
تاریخی طور پر بحری ناکابندیاں کسی بھی ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کا ایک طاقتور آلہ ثابت ہوئی ہیں، تاہم ایسی کارروائیاں اکثر وسیع تر علاقائی تنازعات اور انسانی بحرانوں کو جنم دیتی ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے حوالے سے ایسی کسی بھی ممکنہ امریکی حکمت عملی کے عالمی توانائی کی سپلائی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔