نومبر 2025 میں بحیرہ بالٹک کے ساحل پر ایک چھوٹا، مگر تزویراتی طور پر اہم واقعہ پیش آیا۔
مزید پڑھیں
بالٹک ریاستوں میں سے ایک، ایسٹونیا میں محض 60 سینٹی میٹر لمبے میزائل نے ’گیران-2‘ ڈرون (جو ایرانی شاہد ڈرون کا روسی ورژن ہے) کو کامیابی سے مار گرایا۔
یہ ’مارک 1‘ (Mark 1) میزائل کا پہلا تجربہ تھا، جسے ایسٹونیا کی سٹارٹ اپ کمپنی ’فرینکین برگ‘ نے تیار کیا ہے۔
یہ محض ایک تجربہ نہیں بلکہ اس ’مائیکرو میزائل‘ انقلاب کا آغاز ثابت
ہوا، جو مستقبل قریب میں میدانِ جنگ کے نقشے بدلنے والا ہے۔
’مارک 1‘: چھوٹا مگر ذہین شکاری
’مارک 1‘ اس وقت دنیا کا سب سے چھوٹا اینٹی ڈرون میزائل قرار دیا جا رہا ہے، جس کا وزن مجموعی طور پر صرف 2 کلوگرام سے بھی کم ہے اور حیران کن طور پر اس کا وار ہیڈ صرف آدھا کلو وزنی ہے۔
یہ 2 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی سب سے بڑی خاصیت اس کا خودکار گائیڈنس سسٹم ہے جو مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ہے۔
ٹھوس ایندھن پر چلنے والے اس میزائل کی کامیابی کی شرح فی الحال 56 فیصد ہے، جسے کمپنی پیداوار بڑھنے کے ساتھ 90 فیصد تک لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
کمپنی کا ہدف روزانہ 100 میزائل تیار کرنا ہے، تاہم اسے ’شاہد‘ جیسے سُست ڈرونز کے مقابلے میں جیٹ انجن والے جدید ڈرونز کو گرانے میں دشواری کا سامنا ہو سکتا ہے۔
’مائیکرو‘ میزائل: سویڈن اور جرمنی کی پیش قدمی
اہم بات یہ ہے کہ اب صرف ایسٹونیا ہی نہیں، بلکہ سویڈن اور جرمنی بھی ’منی‘، ’مائیکرو‘ اور ’الٹرا منی‘ میزائلوں کی تیاری میں مصروف ہیں۔
سویڈن کی کمپنی ’نورڈک ایئر ڈیفنس‘ ایک ایسا میزائل تیار کر رہی ہے جسے ’کروگر 100‘ کا نام دیا گیا ہے۔
آپ کو حیرت ہوگی کہ اس میزائل کو’سویڈش ماچس کی تیلی‘ بھی کہا جا رہا ہے کیونکہ یہ سائز میں انتہائی چھوٹا اور فائبر گلاس سے بنا ہوا ہے۔
اس کی قیمت محض 5000 ڈالر ہے اور اس میں کوئی وار ہیڈ نہیں ہوتا، بلکہ یہ صرف ہدف سے ٹکرا کر اسے تباہ کر دیتا ہے۔
اس میں مہنگے کیمروں کے بجائے انفرا ریڈ سینسرز استعمال کیے گئے ہیں تاکہ لاگت کم سے کم رکھی جا سکے۔ اس کا ایک جدید ورژن ’100 XR‘ بھی تیار کیا گیا ہے جو زیادہ رینج اور وار ہیڈ کا حامل ہے۔
اسی طرح سویڈش کمپنی ’ساب‘ (SAAB) ایک ایسا میزائل ’نمبریکس‘ (Nimbrix) تیار کر رہی ہے جسے وہ ’ڈرون کا ڈراؤنا خواب‘ قرار دیتی ہے۔
یہ ایک میٹر لمبا اور 3 کلو وزنی میزائل ہے جو ڈرونز کے ’سولر حملوں‘ یا جھنڈ (Swarm) کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
سویڈن کا ارادہ ہے کہ یہ میزائل رواں سال یوکرین بھیجا جائے تاکہ روسی ڈرونز کے خلاف اس کا حقیقی تجربہ کیا جا سکے۔
اُدھر جرمنی کی کمپنی ’MBDA‘ بھی اِس دوڑ میں پیچھے نہیں ہے، جس نے ’ڈیفینڈ ایئر‘ (DefendAir) نامی میزائل بنایا ہے۔
اس میزائل کو جرمن کمپنی ’رائن میٹل‘ کی ’اسکائی رینجر 1‘ گاڑیوں پر نصب کیا جا سکتا ہے، جس سے ان کی دفاعی حد 3 گنا بڑھ جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے بھی اس میزائل کی خریداری کے لیے 490 ملین یورو مختص کیے ہیں، جس کے بعد اس نے پرانے ’اسٹنگر‘ میزائلوں کا منصوبہ ترک کر دیا ہے جن کے ایک یونٹ کی قیمت 5 لاکھ ڈالر تھی۔
لوہا لوہے کو کاٹتا ہے: روسی ردعمل
دفاعی صلاحیت کی اس ترقی پاتی ہوئی دوڑ میں روس، جو خود یوکرینی ڈرون حملوں سے شدید متاثر ہوا ہے، اب اپنی ڈیفنس پالیسی بدل رہا ہے۔
روس اپنے مشہور ’پینٹسر 1‘ (Pantsir 1) ڈیفنس سسٹم کو اب چھوٹے میزائلوں سے لیس کر رہا ہے۔
پہلے اس سسٹم میں 12 روایتی میزائل ہوتے تھے، لیکن اب یہ چھوٹے میزائلوں کے ذریعے 48 اہداف کو نشانہ بنانے کے قابل ہو جائے گا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ روس بھی اب مغربی ممالک کی طرح دفاع کی لاگت کم کرنے کے لیے اس طرح کے چھوٹے میزائلوں پر انحصار کر رہا ہے۔
’سیلف ڈیفنس‘میزائل: امریکی حکمتِ عملی
امریکہ اس طرح کے چھوٹے میزائلوں کو ایک مختلف مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔
پینٹاگون اپنے بڑے مال بردار اور ایندھن بھرنے والے طیاروں (جیسے C-130، C-17، KC-45 اور KC-46) کو ان ننھے میزائلوں سے لیس کر رہا ہے تاکہ وہ دشمن کے میزائلوں یا ڈرونز سے اپنا دفاع خود کر سکیں۔
پینٹاگون نے حال ہی میں ’آر ٹی ایکس‘ کمپنی سے ’کویوٹ‘ (Coyote) میزائل کی خریداری کے لیے 5 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا ہے۔
یہ میزائل 60 سینٹی میٹر لمبا ہے اور اس کی یونٹ لاگت ایک لاکھ ڈالر ہے، جو ’اسٹنگر‘ (5 لاکھ ڈالر) اور ’ایس-ایم 2‘ (2 ملین ڈالر) کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
ڈرون: وہ ہتھیار جس نے دفاع کا نیا راستہ دکھایا
گزشتہ چند برسوں میں ڈرونز ایک ایسے ہتھیار کے طور پر ابھرے ہیں، جنہوں نے روایتی بھاری اسلحے کی اہمیت کم کر دی ہے۔ یہ کافی سستے، کثیر المقاصد اور نچلی پرواز کرنے والے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ریڈار سے بچ نکلتے ہیں۔
جون 2025 میں یوکرین کے ’آپریشن اسپائیڈرویب‘ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں نے ثابت کیا کہ ڈرونز کے ذریعے اسٹریٹجک اثاثوں کو کیسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرونز کے جھنڈ (Swarms) روایتی دفاعی نظام کو الجھا دیتے ہیں، جس کے حل کے لیے چھوٹے میزائل ناگزیر ہو گئے ہیں۔
مہنگے میزائل ایک بوجھ: اقتصادی حقیقت
عالمی جنگوں اور دفاع کے درمیان اس پوری بحث کا سب سے اہم پہلو ’معاشیات‘ ہے۔
جب ایک امریکی ’ایف-16‘ طیارہ (قیمت 40 ملین ڈالر) ایک لاکھ ڈالر کا ’ایمرام‘ میزائل استعمال کر کے 30 ہزار ڈالر کے ڈرون کو گراتا ہے، تو یہ جنگ جیتنے کے بجائے معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کا راستہ بن جاتا ہے۔
ایک ’ایمرام‘ میزائل کی قیمت ڈرون سے 12 گنا زیادہ ہے، جبکہ طیارے کی قیمت 500 گنا زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹے میزائل اس معاشی عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
ماضی میں میزائلوں کا سائز اس لیے بڑھایا گیا تھا تاکہ ان کی حد (Range) اور تباہی پھیلانے کی صلاحیت زیادہ ہو، لیکن ڈرونز کے چھوٹے سائز اور ان کی لچک نے دنیا کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ دوبارہ ’مائیکرو ٹیکنالوجی‘ کی طرف لوٹے۔
اگر یہ چھوٹے میزائل کامیاب ہو گئے، تو ہم جنگی تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہوں گے جہاں بھاری اور مہنگے ہتھیاروں کے بجائے ’ننھے اور اسمارٹ‘ ہتھیار فتح و شکست کا فیصلہ کریں گے۔
چھوٹے ہتھیاروں کا یہ انقلاب جنگی دنیا میں اتنا ہی بڑا ثابت ہو سکتا ہے جتنا ڈرونز کی آمد حیران کن تھی۔