اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

امریکی بحری محاصرہ نافذ، آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مذاکرات ایک جاری سفارتی عمل کا حصہ ہیں، نہ کہ ایک بار کی کوشش (فوٹو: الجزیرہ)

آبنائے ہرمز کا امریکی بحری محاصرے کا آغاز سعودی وقت کے مطابق 5 بجے شام سے شروع ہوچکا ہے جو واشنگٹن کی جانب سے ایرانی بحری بندرگاہوں پر عائد کردہ محاصرے کا حصہ ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ یہ محاصرہ آج پیر کے روز سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔

آج اس سے قبل ملاحوں کے لیے جاری ایک میمورنڈم میں بتایا گیا تھا کہ امریکی فوج خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں، آبنائے ہرمز کے مشرقی علاقے میں بحری کنٹرول قائم کرے گی۔

مزید پڑھیں

امریکی فوج نے واضح کیا کہ یہ بحری کنٹرول تمام بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر لاگو ہوگا، خواہ ان کا پرچم کسی بھی ملک کا ہو۔ 

بیان کے مطابق جو بھی جہاز اس محصور علاقے میں داخل ہوگا یا باہر نکلے گا اور اس کے پاس اجازت نامہ نہیں ہوگا، اسے روکا جا سکتا ہے، اس کا رخ موڑا جا سکتا ہے یا اسے حراست میں لیا جا سکتا ہے۔

مزید کہا گیا کہ انسانی امداد پر مشتمل کھیپوں، جن میں خوراک اور

 طبی سامان شامل ہیں، کو اجازت دی جائے گی، تاہم یہ بھی معائنے کی شرط کے ساتھ ہوگا۔

امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے جہازوں پر مکمل بحری محاصرہ عائد کیا جائے گا۔ 

سینٹکام کے مطابق یہ اقدام خلیج عرب اور خلیج عمان میں موجود تمام ایرانی ساحلی و بندرگاہی علاقوں پر لاگو ہوگا اور تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر نافذ کیا جائے گا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ بھی کہا کہ اس کی افواج آبنائے ہرمز سے گزرنے والی غیر ایرانی بندرگاہوں کی جانب جانے والی یا وہاں سے آنے والی بحری نقل و حرکت میں رکاوٹ نہیں بنیں گی۔ 

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ فوج تجارتی جہاز رانوں کو باضابطہ نوٹس کے ذریعے مزید معلومات فراہم کرے گی۔

دوسری طرف ایرانی مسلح افواج نے امریکی اقدام کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے اسے ’قزاقی‘ کے مترادف کہا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر خلیجی بندرگاہوں میں ایرانی بندرگاہوں کو خطرہ پہنچایا گیا تو پورا خطہ غیر محفوظ ہو جائے گا۔

65456456 1
ایرانی تیز رفتار حملہ آور کشتیاں محاصرے کو توڑنے کی کوشش کریں گی تو انہیں تباہ کر دیا جائے گا (فوٹو: العربیہ)

اس دوران ویب سائٹ آکسیس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اگر بحری محاصرہ ایران کے رویے میں تبدیلی نہ لا سکا تو دوبارہ فضائی حملے شروع کیے جائیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر تصدیق کی کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے جہازوں پر محاصرہ نافذ کرے گا اور یہ فیصلہ نافذ ہو گیا ہے۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اقدامات کرے گا اور ایران کو تیل کی فروخت سے روکنے کے لیے بحری محاصرہ نافذ کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز خبردار کیا کہ اگر ایرانی تیز رفتار حملہ آور کشتیاں اس محاصرے کو توڑنے کی کوشش کریں گی تو انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔ 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے تاہم وہ ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کریں گے جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے دے۔

65465465 5
اسلام آباد کو دوبارہ میزبان بنانے پر غور جاری ہے، جبکہ جنیوا کو بھی متبادل کے طور پر پیش کیا گیا ہے (فوٹو: العربیہ)

انہوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگر کوئی بھی کشتی ہمارے محاصرے کے قریب آئی تو اسے فوراً تباہ کر دیا جائے گا۔ 

ان کے مطابق ایرانی بحریہ کی بڑی اکثریت پہلے ہی تباہ ہو چکی ہے اور صرف چند چھوٹی تیز رفتار کشتیاں باقی ہیں۔