امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز پر بحری ناکہ بندی نافذ کرے گی، جس کے تحت اس راستے سے گزرنے والی تمام کشتیوں کو روکا جائے گا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا ہے کہ اب سے ہر اُس جہاز کو روکا جائے گا جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا نکلنے کی کوشش کرے گا اور اس ناکہ بندی میں دیگر ممالک بھی شامل ہوں گے۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکی بحریہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان تمام جہازوں کو تلاش کر کے روکے جو ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے عوض فیس ادا کرتے ہیں اور ایسے جہازوں کو محفوظ گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو بھی تباہ کیا جائے گا، اور خبردار کیا کہ اگر کسی ایرانی نے امریکی یا پرامن جہازوں پر فائرنگ کی تو اسے ہلاک کر دیا جائے گا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مجموعی طور پر مثبت رہے اور بیشتر معاملات پر اتفاق بھی ہوا تاہم جوہری پروگرام کے معاملے پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
ٹرمپ کے مطابق مذاکرات تقریباً 20 گھنٹے جاری رہے لیکن ایران کی جوہری خواہشات کے باعث حتمی معاہدہ ممکن نہ ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کسی بھی وقت ایران کے خلاف سخت کارروائی کے لیے تیار ہے۔
بعد ازاں فوکس نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو بند کیا جائے گا اور اس کے لیے مزید بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز لائے جائیں گے، جبکہ نیٹو اور دیگر ممالک بھی اس میں مدد کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سخت بیانات ہی ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کا سبب بنے، اور امکان ظاہر کیا کہ ایران دوبارہ مذاکرات کے لیے واپس آئے گا۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد میں امریکی وفد کی قیادت کرتے ہوئے ایران کے ساتھ مذاکرات میں شریک تھے۔