گھنٹوں کی امید افزا صورتحال کے بعد، جس میں پاکستان میں ہفتے کے روز ہونے والے امریکہ، ایران مذاکرات میں پیشرفت کے امکانات ظاہر کئے جا رہے تھے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعلان کیا کہ کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا جو دونوں فریقوں کو مطمئن کر سکے۔
وینس کے اس اعلان کو اس امید کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے جو ان رپورٹس سے پیدا ہوئی تھیں کہ پاکستان کی درخواست پر آج اتوار کو دونوں وفود کے درمیان ایک اور اجلاس کی تیاری ہو رہی ہے۔
وینس نے کہا کہ پاکستان نے اختلافات کم کرنے کے لیے بڑی کوششیں کیں۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق دونوں فریق ایسے نکات پر سختی سے قائم رہے جنہیں وہ ایک دوسرے کے لیے ناقابل قبول سمجھتے ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات۔
ایرانی میڈیا نے ذرائع نے بتایا کہ امریکی فریق نے ایسے مطالبات پیش کیے جو قبول کرنا ممکن نہیں تھے جبکہ ایرانی اور پاکستانی فریق نے معاہدے تک پہنچنے کے لیے متعدد تجاویز پیش کیں۔
الجزیرہ کے تہران میں نمائندے عمر حواش کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ امریکی وفد اپنے مؤقف پر اس لیے قائم رہا کیونکہ وہ مذاکرات سے نکلنے کا بہانہ تلاش کر رہا تھا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اپنے غیر حقیقی مطالبات پر اصرار کرتا ہے تو ایران دوبارہ جنگ کے لیے بھی تیار ہے۔
مذاکراتی وفد کے آئندہ چند گھنٹوں میں ایران واپس جانے کی توقع ہے اور مبینہ طور پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ناکامی کے بعد اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جیسا کہ بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن میں الجزیرہ کے نمائندے احمد الرہید کے مطابق امریکی حکام ایران کے اس دعوے پر اعتماد نہیں کرتے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں چاہتا۔
ان کے مطابق یہ اختلاف امریکہ کے اس اسٹریٹجک ہدف کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ طویل مدت میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا چاہتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کے نتائج سے مطمئن نہیں تھے جبکہ نائب صدر وینس نے اسلام آباد میں ایک حتمی پیشکش چھوڑ کر ایران کو جواب دینے کا موقع دیا ہے، جس سے امکان ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
تاہم ایک ایرانی ذریعے نے فارس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ تہران کا وفد ’میدان میں حاصل شدہ کامیابیوں‘ پر قائم ہے اور ایران اگلے کسی بھی مذاکراتی دور کا ارادہ نہیں رکھتا کیونکہ امریکی پیشکش کو غیر مؤثر سمجھا جا رہا ہے۔