اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

توانائی کی بلند قیمتیں ترقی پذیر ممالک کے لیے سنگین خطرہ بن گئیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عالمی سطح پر توانائی کی بلند قیمتیں اور معاشی بحران کی عکاسی کرتی ایک تصویر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور توانائی کی بلند قیمتوں نے ترقی پذیر معیشتوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق سری لنکا، مصر اور پاکستان جیسے ممالک اس بحرانی صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جس سے معاشی بحالی کے عمل کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

سری لنکا کی مشکلات

سری لنکا میں سیاحت سے وابستہ افراد پُرامید تھے کہ اس سال حالات معمول پر آئیں گے، تاہم جنگ کے باعث صورتحال اچانک بدل گئی ہے۔

حالات کو سنبھالنے کے لیے حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں 35 فیصد اضافہ کر دیا ہے، جس سے کاروبار کا حجم ایک تہائی تک سکڑ چکا ہے۔

عالمی سطح پر توانائی کی بلند قیمتیں اور معاشی بحران کی عکاسی کرتی ایک تصویر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

کولمبو حکومت اب ایندھن پر دوبارہ سبسڈی فراہم کر رہی ہے اور عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے بیل آؤٹ پروگرام کی شرائط میں نرمی کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔ 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کوششیں ملک کو معاشی طور پر دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا موقع فراہم کر سکتی ہیں۔

پاکستان کی نازک معاشی صورتحال

پاکستان کو تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافے کے باعث درآمدی بل میں نمایاں اضافے کا سامنا ہے۔

عالمی سطح پر توانائی کی بلند قیمتیں اور معاشی بحران کی عکاسی کرتی ایک تصویر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

مارچ کے اختتام تک پاکستان کے پاس 16.4 ارب ڈالر کے ذخائر تھے، جو تین ماہ کی درآمدات کے لیے ناکافی ہیں۔ جے پی مورگن کے مطابق، مرکزی بینک کی ذمہ داریوں کو نکال کر یہ ذخائر منفی میں ہیں۔

صورت حال کے پیش نظر ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں دو بار اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ توانائی بچانے کے لیے کفایت شعاری مہم کے تحت سرکاری دفاتر میں ہفتے میں 4 دن کام کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ 

اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے 3.5 ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی اور اسے مؤخر کرانے کا معاملہ بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

مصر میں معاشی دباؤ کی شدت

مصر میں سیاحت سے حاصل آمدنی میں کمی اور نہر سویز پر ممکنہ اثرات نے معاشی مشکلات بڑھا دی ہیں۔

عالمی سطح پر توانائی کی بلند قیمتیں اور معاشی بحران کی عکاسی کرتی ایک تصویر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

قاہرہ حکومت نے گزشتہ سال سیاحت سے 19 ارب ڈالر کمائے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری محصولات کا 60 فیصد حصہ قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہونے کا خدشہ ہے، جو کہ مجموعی طور پر 30 ارب ڈالر ہے۔

ایران امریکہ جنگ کے آغاز سے اب تک مصر سے تقریباً 8 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری نکل چکی ہے۔ 

اسی طرح کرنسی پر دباؤ کے باعث مصری پاؤنڈ کی قدر میں بھی 10 فیصد سے زائد کمی ہوئی ہے، جس سے ایندھن، خوراک اور کھاد کی درآمدات مہنگی ہو گئی ہیں۔

عالمی اداروں کا کردار اور توقعات

واشنگٹن میں ہونے والے عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے موسم بہار کے اجلاسوں میں ان ممالک کی جانب سے ہنگامی مدد کی اپیل متوقع ہے۔

پاکستانی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اہم اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکا روانہ ہو چکے ہیں۔

اُدھر آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے اشارہ دیا ہے کہ عالمی ادارے 20 سے 50 ارب ڈالر تک کی ہنگامی امداد فراہم کر سکتے ہیں۔

عالمی سطح پر توانائی کی بلند قیمتیں اور معاشی بحران کی عکاسی کرتی ایک تصویر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں سخت شرائط کے بجائے ترقی پذیر ممالک کے لیے لچکدار پالیسی اپنانا ناگزیر ہے۔

پاکستان اور مصر جیسے ممالک کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے اعتماد کا بیان اور بروقت مالی معاونت ہی معاشی استحکام کی ضمانت بن سکتی ہے۔

موجودہ معاشی بحران کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک عالمی ردعمل ہے۔ 

توانائی کی بلند قیمتیں اور غیر یقینی صورتحال ترقی پذیر دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو رہی ہیں اور اس موقع پر عالمی مالیاتی اداروں کی بروقت مداخلت اور پالیسیوں میں لچک ہی ان ممالک کو مکمل معاشی تباہی سے بچا سکتی ہے۔