ایرانی فوج نے پیر کے روز متوقع امریکی بحری محاصرے کو غیر قانونی اور سمندری قزاقی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا تو خلیج اور بحیرہ عمان میں واقع دیگر تمام بندرگاہیں بھی غیر محفوظ ہو جائیں گی۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے مرکزی آپریشنل ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا نے سرکاری ٹیلی ویژن پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکی پابندیاں بین الاقوامی پانیوں میں جہاز رانی کی آزادی کے منافی ہیں۔
ترجمان کرنل ابراہیم ذو الفقار کے مطابق تہران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نگرانی کا مستقل نظام لائے گا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن پیر
13 اپریل کو مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے سے ایرانی بندرگاہوں پر آنے اور جانے والے تمام جہازوں کا محاصرہ شروع کرے گا۔
تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے واضح کیا کہ ایران سے منسلک نہ ہونے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بے نتیجہ رہنے کے بعد خطے میں جنگی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
گزشتہ 6 ہفتوں کے دوران کشیدگی میں 6 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس سے نہ صرف عالمی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے بلکہ تیل کی سپلائی کے حوالے سے بھی شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے فوکس نیوز کو بتایا ہے کہ برطانیہ سمیت دیگر ممالک آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے مائن سویپرز بھیجیں گے۔
تاہم انہوں نے اس آپریشن کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ یہ کارروائی کس طرح انجام دی جائے گی۔
اُدھر ایران نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ تہران کسی بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
پاسداران انقلاب نے بھی خبردار کیا ہے کہ دشمن کو آبنائے ہرمز میں ایک مہلک گرداب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے، تاہم اس کی مدت میں توسیع کے حوالے سے تہران یا واشنگٹن کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
دنیا اب آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جو عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے اور جہاں سے دنیا بھر کی کل سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
اس راستے پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بحران اور قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔