اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

امریکی بحری محاصرہ: ایران کو روزانہ 435 ملین ڈالر کا نقصان

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران کے ممکنہ نقصانات کئی غیر واضح عوامل پر منحصر ہیں (فوٹو: العربیہ)

امریکی بحری محاصرہ جاری ہے جسے سے اندازوں کے مطابق اس کے نتیجے میں ایرانی حکومت کو روزانہ تقریباً 435 ملین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے، جس میں 276 ملین ڈالر برآمدات، بالخصوص خام تیل اور پیٹروکیمیکلز سے ہونے والا نقصان شامل ہے۔

یہ تخمینہ ڈیموکریسیز ڈیفنس فاؤنڈیشن کے تجزیہ کار میاد مالکی نے اس بنیاد پر لگایا ہے کہ ایران روزانہ 1.5 ملین بیرل تیل تقریباً 87 ڈالر فی بیرل کی قیمت پر برآمد کرتا ہے، اور یہ فرض کیا گیا ہے کہ 90 فیصد سے زائد تیل جزیرہ خارک کے راستے بھیجا جاتا ہے۔

تاہم دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے ممکنہ نقصانات کئی غیر واضح عوامل پر منحصر ہیں، جن میں امریکی محاصرے کی حقیقی شدت اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے باہر جاسک بندرگاہ کے ذریعے برآمدات کو موڑنے کی صلاحیت شامل ہے۔

مزید پڑھیں

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران قلیل مدت میں اس نقصان کی کچھ حد تک تلافی کر سکتا ہے، کیونکہ اس کے پاس پہلے سے موجود تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ 

مارچ کے آخر تک اندازاً 154 ملین بیرل تیل ایران کے پاس بحیرہ عمان کے قریب موجود تھا، جو کے پلر کمپنی کے مطابق محاصرے سے متاثرہ علاقے سے باہر تیرتا ہوا ذخیرہ ہے۔ 

مکمل یا محدود اثر؟

کچھ مبصرین کے مطابق اگر یہ محاصرہ صرف چند ہفتے جاری رہا تو اس کا اثر محدود ہو سکتا ہے، کیونکہ ایران کے پاس بحیرہ عمان میں تقریباً 21 ملین بیرل کا تیرتا ہوا ذخیرہ موجود ہے، جو 10 سے 14 دن کی برآمدات کے لیے کافی ہے۔

546546 1
ایران سالانہ تقریباً 40 ملین ٹن اشیاء درآمد کرتا ہے، جن میں 25 ملین ٹن بنیادی ضروریات ہیں (فوٹو: العربیہ)

اگرچہ ایران بندرگاہ ’جاسک‘ کو متبادل کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، لیکن اس کی موجودہ صلاحیت انتہائی محدود ہے (تقریباً 10 ہزار بیرل یومیہ) اور یہ محاصرے کو مؤثر طور پر بائی پاس کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

مکمل طور پر سمندری برآمدات رکنے کی صورت میں ایران کو روزانہ 200 سے 350 ملین ڈالر یا اس سے بھی زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔

غیر تیل برآمدات کے حوالے سے زیادہ تر پیٹروکیمیکلز، معدنیات اور کھادیں چین اور ایشیا کو جنوبی بندرگاہوں کے ذریعے برآمد کی جاتی ہیں۔ 

اگرچہ برآمدات کا نصف حصہ زمینی راستوں سے عراق، ترکی اور افغانستان کو جاتا ہے، لیکن بڑی مقدار سمندری راستوں پر منحصر ہے۔ 

بندرگاہ ’چابہار‘ بحر عمان میں ایک متبادل ہے، مگر اس کی گنجائش آبنائے ہرمز کی بندش کا متبادل بننے کے لیے ناکافی ہے۔

درآمدات اور بنیادی اشیا

ایران سالانہ تقریباً 40 ملین ٹن اشیا درآمد کرتا ہے، جن میں 25 ملین ٹن بنیادی ضروریات ’خوراک، تیل، چارہ وغیرہ‘ شامل ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا محاصرہ خوراک اور ادویات کو مستثنیٰ کرے گا یا مکمل طور پر شامل ہوگا۔

6546654
طویل محاصرے سے غیر ملکی زرمبادلہ کی شدید کمی اور کرنسی کی قدر میں تیزی سے گراوٹ ہوگی (فوٹو: العربیہ)

طویل محاصرہ غیر ملکی زرمبادلہ کی شدید کمی، کرنسی کی قدر میں تیزی سے گراوٹ، مہنگائی اور بجٹ خسارے میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، اور ممکن ہے کہ برآمدات سے حاصل آمدنی میں سالانہ 100 ارب ڈالر تک کمی ہو، جو ملکی جی ڈی پی کے تقریباً ایک چوتھائی کے برابر ہے۔

امریکی فوج کے مطابق یہ محاصرہ اب خلیج عمان اور بحیرہ عرب تک پھیلایا جا چکا ہے، جبکہ شپ ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوا کہ محاصرے کے آغاز کے ساتھ ہی دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے واپس مڑ گئے۔

دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو وہ خلیج کے ساحلی ممالک کی بندرگاہوں کو نشانہ بنا سکتا ہے، یہ کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے، جو 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے تھے، اور جو 8 اپریل کو پاکستانی ثالثی سے دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر ختم ہوئی تھی۔