بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن IMO کے سیکریٹری جنرل آرسی نیو ڈومینگز نے پیر کے روز کہا کہ کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز کو بحری نقل و حمل کے لیے بند کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔
انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’بین الاقوامی قانون کے تحت کسی بھی ملک کو بین الاقوامی سمندری راستوں پر محفوظ گزرگاہ یا آزاد بحری آمد و رفت کو روکنے کا حق حاصل نہیں ہے، خصوصاً وہ آبنائیں جو عالمی ٹرانزٹ کے لیے استعمال ہوتی ہیں‘۔
مزید پڑھیں
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آج پیر سے ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی شروع کرے گا۔
یہ اقدام ایران کے ساتھ اسلام آباد میں مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سامنے آیا، جبکہ 28 فروری سے جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز پہلے ہی متاثر ہے۔
یہ ناکہ بندی، جس کی اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی
حمایت کی ہے، امریکی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے شروع ہوئی اور اس میں ایران کی بندرگاہوں کی طرف جانے یا وہاں سے آنے والے تمام بحری جہاز شامل ہوں گے۔
اس اقدام سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور خاص طور پر چین پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب ایرانی مسلح افواج نے اس ناکہ بندی کو ’غیر قانونی‘ اور ’قزاقی‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کو خطرہ لاحق ہوا تو خلیج میں کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔
پیر کے روز تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی، جو حالیہ دنوں کی نسبت دوبارہ اضافہ ہے، یہ صورتحال جزوی جنگ بندی کے بعد نسبتاً سکون کے دور کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے۔
نیو یارک کے سوفان ریسرچ سینٹر کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا مقصد ایران کی تیل آمدن کو محدود کرنا اور بڑے خریداروں خصوصاً چین کو دباؤ میں لانا ہے تاکہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے۔
بیجنگ، جو ایرانی تیل پر بڑی حد تک انحصار کرتا ہے، نے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل میں خلل نہ ڈالا جائے، جہاں سے دنیا کے تیل اور مائع گیس کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی کہا ہے کہ آبنائے کو جلد از جلد کھولا جانا چاہیے۔
اتحادیوں کی تنقید
امریکہ کے کئی اتحادی ممالک نے بھی اس ناکہ بندی پر تنقید کی ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ہم اس ناکہ بندی کی حمایت نہیں کرتے، اور واضح کیا کہ برطانیہ اس جنگ میں نہیں گھسیٹا جائے گا۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے خبردار کیا کہ توانائی بحران کے باعث ان کی معیشت طویل عرصے تک متاثر رہے گی، جبکہ اسپین نے اس اقدام کو بے معنی قرار دیا ہے۔
فرانس اور برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ہفتے ایک کثیر الملکی مشن کے قیام کے لیے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال رکھی جا سکے، تاہم اس کا مقصد پرامن ہوگا۔
اسلام آباد مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد کشیدگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس میں 20 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی بات چیت کے باوجود فریقین کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔
جنگ بندی کے مستقبل پر بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جو 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔