اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

امریکی میڈیا: ایران کے ساتھ مذاکرات کا نیا دور چند دنوں میں ممکن

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک نئی مذاکراتی دورانیہ آئندہ چند دنوں میں منعقد ہونے کا امکان ہے، جب کہ اسلام آباد میں طویل اور پیچیدہ امن مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق علاقائی ذرائع نے بتایا ہے کہ خطے کے ممالک دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔ 

اگرچہ واشنگٹن اور تہران کی جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں لیکن مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔

مزید پڑھیں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر اگلا مذاکراتی دور چند دنوں کے اندر منعقد کیا جا سکتا ہے، جبکہ خطے کے ممالک امریکہ کے ساتھ مل کر ایک کمزور جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو گزشتہ منگل کی شام سے نافذ ہے اور دو ہفتوں تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد مذاکرات 1979 کے بعد امریکہ اور ایران کے

f4f969b1 9f6a 41e5 86a8 fa495644a89b 2026 04 12

 اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات تھے، جن میں آبنائے ہرمز کو بغیر فیس کھولنے، افزودہ یورینیم کے مستقبل، اور منجمد ایرانی اثاثوں (تقریباً 27 ارب ڈالر) کی واپسی جیسے اہم معاملات زیر بحث آئے۔

ایران نے جزوی طور پر یورینیم افزودگی جاری رکھنے یا ذخائر میں کمی کی تجویز دی تاہم کسی حتمی سمجھوتے تک نہیں پہنچا جا سکا۔

دونوں ممالک 20 گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والے مذاکرات کے باوجود جنگ ختم کرنے کے معاہدے میں ناکام رہے تاہم دو ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل جاری ہے۔

یہ جنگ بندی 7-8 اپریل کی رات سے نافذ ہے، جس کی ثالثی پاکستان نے کی تھی اور اس کے تحت وقتی طور پر لڑائی روکنے اور مزید مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ نے ایران کو ’حتمی اور بہترین پیشکش‘ دی ہے، جبکہ ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے الزام لگایا کہ امریکہ اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

654646

پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسلام آباد خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور جنگ بندی کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

ایرانی میڈیا نے مذاکرات کی ناکامی کی وجہ امریکی ’غیر معقول مطالبات‘ کو قرار دیا، جبکہ بعض ایرانی رہنماؤں نے امریکہ پر مذاکرات میں دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا۔

سابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی ایسے مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا جس میں اسے شرائط مسلط کی جائیں۔

رپورٹ کے مطابق مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز کا مسئلہ سب سے اہم تنازع رہا، جسے ایران نے جنگ کے دوران بند کر دیا تھا، جبکہ امریکہ اس کی مکمل بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے۔

دوسری جانب برطانیہ اور عمان نے بھی جنگ بندی جاری رکھنے کی اپیل کی ہے، تاکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔