اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد خطے کی صورتحال ایک بار پھر غیر یقینی کیفیت میں داخل ہو گئی ہے، جہاں سفارتی کوششوں کے ٹوٹنے نے سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا آگے بڑھنے والا راستہ مزید تصادم کی طرف جائے گا یا کسی نئی سفارتی کوشش کی گنجائش باقی ہے۔
مزید پڑھیں
تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کے بعد پہلا ممکنہ منظرنامہ محدود کشیدگی کا ہے۔
اس صورت میں امریکہ ایران پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ کرے گا، پابندیوں کو مزید سخت کیا جائے گا اور خطے میں اپنی بحری موجودگی کو بڑھایا جائے گا، جبکہ ایران اپنی علاقائی حکمت عملی کو زیادہ فعال بنا سکتا ہے۔
اسی ضمن میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور ایران کا محاصرہ بھی شامل ہے تاہم اس پر ایرانی رد عمل کیا ہوسکتا ہے یہ آنے والے دنوں میں معلوم ہوگا۔
دوسرا منظرنامہ دوبارہ مذاکرات کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ موجودہ مذاکرات ناکام ہوئے ہیں تاہم دونوں فریق مکمل طور پر سفارتی چینل بند کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس لیے کسی تیسرے ملک کی ثالثی سے دوبارہ رابطوں کی راہ نکل سکتی ہے۔
تیسرا اور خطرناک ترین منظرنامہ ’غیر ارادی تصادم‘ کا ہے، جس میں خطے میں کسی غلط فہمی یا عسکری غلط حساب کتاب کے نتیجے میں صورتحال اچانک شدت اختیار کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت خطہ انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں معمولی غلطی بھی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ مکمل جنگ کا امکان فوری طور پر کم ہے، لیکن ’سایہ دار جنگ‘ یعنی سائبر حملوں، پراکسی تنازعات اور محدود کارروائیوں کا خطرہ مسلسل موجود رہے گا، جو خطے کو طویل غیر یقینی کیفیت میں رکھ سکتا ہے۔