واشنگٹن اور تہران کے درمیان اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے نتائج کے عالمی انتظار کے دوران امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق ایران کے پاس اب بھی اپنے بیلسٹک میزائل ذخیرے میں ہزاروں میزائل موجود ہیں، جنہیں زیرِ زمین ذخیرہ گاہوں سے لانچ پلیٹ فارمز دوبارہ فعال کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
کچھ امریکی حکام نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ ایران، واشنگٹن کے ساتھ جنگ بندی کے دوران اپنے میزائل ذخیرے کے ایک حصے کی دوبارہ تیاری اور بحالی کی کوشش کر سکتا ہے، جیسا کہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے جمعہ کے روز رپورٹ کیا ہے۔
ایران کی صلاحیتیں
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیث نے اس ہفتے کے آغاز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کا میزائل پروگرام ’عملی طور پر تباہ‘ ہو چکا ہے، اور لانچ پلیٹ فارمز اور میزائل ’استعمال کے قابل نہیں رہے‘۔
تاہم امریکی انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق تہران اب بھی اپنی میزائل صلاحیت کے ایک حصے کو دوبارہ منظم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کے ’نصف سے زیادہ لانچ پلیٹ فارمز تباہ، نقصان زدہ یا زیرِ زمین معطل‘ ہیں لیکن باقی کئی پلیٹ فارمز کو مرمت یا زیرِ زمین تنصیبات سے نکالا جا سکتا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران ایران کے میزائل ذخائر تقریباً نصف رہ گئے ہیں تاہم اس کے پاس اب بھی ہزاروں کم اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل موجود ہیں جو زیرِ زمین گوداموں سے نکالے جا سکتے ہیں۔
حکام نے یہ بھی بتایا کہ ایران کے پاس خودکش حملہ آور ڈرونز کی تعداد بھی جنگ کے آغاز کے مقابلے میں 50 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے کیونکہ انہیں لڑائی کے دوران استعمال کیا گیا اور امریکہ و اسرائیل نے اسلحہ سازی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
ان کے مطابق ایران روس سے اسی نوعیت کے نظام حاصل کر سکتا ہے۔
مزید یہ کہ ایران کے پاس محدود تعداد میں کروز میزائل بھی موجود ہیں، جو آبنائے ہرمز میں جہازوں یا امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں، اگر مذاکرات ناکام ہو جائیں۔
امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر جلد واپس آنے کا امکان نہیں رکھتیں، کیونکہ دفاعی صنعت کو شدید نقصان پہنچا ہے تاہم ایرانی افواج اب بھی لانچ پلیٹ فارمز کا کچھ حصہ فعال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
تہران کے میزائل
اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کے تقریباً دو تہائی بیلسٹک میزائل لانچ پلیٹ فارمز جنگ کے دوران ناکارہ ہو چکے ہیں تاہم تہران اب بھی زیرِ زمین تنصیبات سے متعدد پلیٹ فارمز بحال کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی ایک ہزار سے زائد درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیں، جو جنگ کے آغاز میں تقریباً 2500 تھے، جبکہ باقی میزائل استعمال یا تباہ ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملے مکمل طور پر فضائی کارروائیوں کے ذریعے کیے گئے، جبکہ پہاڑوں کے اندر گہرائی میں موجود زیرِ زمین میزائل کمپلیکسز کی وجہ سے مکمل تباہی ممکن نہیں ہو سکی۔
اسرائیل نے لانچ سرنگوں کو بند کرنے پر توجہ دی، لیکن بنیادی اڈوں کو مکمل طور پر تباہ کرنا مشکل رہا۔
مزید کہا گیا کہ اسرائیل، ایران کی میزائل فائرنگ کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکا، تاہم جنگ کے دوران روزانہ درجنوں میزائلوں کے بجائے صرف 10 سے 15 میزائل داغنے کی سطح تک کمی کو ایک ’کامیابی‘ قرار دیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت مزید میزائل بڑی مقدار میں تیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور اس کی بحالی کا انحصار روس یا چین کی مدد پر ہو سکتا ہے۔