ایران جنگ نے عالمی فضائی نقشہ دوبارہ ترتیب دیا ہے کیونکہ وسیع فضائی علاقے بند ہوگئے اور کئی علاقائی ہوائی کمپنیوں کی پروازیں معطل ہو گئیں، جس کے باعث بڑے یورپی اور امریکی کپنیوں کو بین الاقوامی فضائی مارکیٹ میں زیادہ حصہ حاصل کرنے کا موقع مل گیا۔
جرمن لوفتهانزا، برٹش ایئر ویز، اور ایئر فرانس-کے ایل ایم گروپ نے نئی پروازیں چلائیں، جن میں بھارت، تھائی لینڈ اور سنگاپور کے راستے شامل ہیں تاکہ وہ مسافروں کو اپنی طرف راغب کریں جو خلیجی کمپنیوں کی پروازیں معطل ہونے کے بعد محدود آپشن کے ساتھ رہ گئے تھے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ کئی سالوں سے امریکی اور یورپی ایئر لائنز نے خلیجی حریفوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو تشویش کے ساتھ دیکھا، خاص طور پر امارات، قطر اور اتحاد ایئر لائنز جو جغرافیائی محل وقوع کی بدولت تین براعظموں کے سنگم پر اپنے ائیر پورٹس کو عالمی ٹرانزٹ مراکز میں بدل چکی ہیں۔
فلائٹ ریڈار نے ظاہر کیا کہ مغربی کمپنیوں کے فائدے ابھی محدود ہیں
اور پائیدار مقابلہ قائم کرنے کے لیے وقت اور محنت کی ضرورت ہے۔
اب بھی سوال یہ ہے کہ یہ عارضی فائدہ ہے یا عالمی فضائی نقل و حمل میں مستقل تبدیلی، کیونکہ وہ مقامات جو پہلے محفوظ سمجھے جاتے تھے، اب جنگ کے اثرات کے زیر اثر ہیں۔
یورپی فضائی کمپنیوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافہ ایک اور چیلنج پیش کرتا ہے، جس کے باعث انہیں دو آپشنز میں سے انتخاب کرنا ہوگا:
یا تو کرایوں میں اضافہ کریں، یا کچھ نقصان برداشت کریں تاکہ مقابلہ برقرار رکھا جا سکے اور مسافروں کو اپنی طرف راغب کیا جا سکے جبکہ جنگ کی مدت غیر واضح ہے۔
ICF کے تجزیہ کار روب ووکر کے مطابق خلیجی ایئر لائنز عالمی مراکز بننے کے اپنے خواب ترک نہیں کریں گی جبکہ یورپی کمپنیوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔
امریکی توسیع
یونائٹڈ اور ڈیلٹا کمپنیوں نے طویل فاصلے کے بڑے طیاروں کی پروازوں میں بالترتیب 11 فیصد اور 12 فیصد اضافہ کیا، فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق، تاکہ یورپی مقامات پر موجودہ پروازیں بڑھائی جا سکیں اور نئے راستے کھولے جائیں تاکہ اعلیٰ خریداری والے امریکی سیاحوں کی خدمت کی جا سکے۔
امریکی ایئر لائنز ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے زیادہ شکار ہیں، کیونکہ انہوں نے قیمت کے خطرات کے خلاف بڑے پیمانے پر ہیجنگ نہیں کی، حالانکہ حال ہی میں طلب میں اضافہ سے فائدہ اٹھایا گیا ہے، کیونکہ مسافر متوقع قیمتوں میں اضافے سے پہلے جلدی سے بکنگ کر رہے ہیں۔
ترکی کی کامیابی اور خلیج کی کمی
بلومبرگ کے ڈیٹا کے مطابق ترک ایئر لائنز نے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے مارکیٹ میں حصہ بڑھایا ہے جبکہ قطر ایئر لائنز نے جنگ کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔
لوفتہانزا کے حکام کے مطابق طلب میں یہ اضافہ نئی پروازوں کو مستقل اسٹیشنوں میں تبدیل کرنے کا موقع ہے تاہم بیڑے کی دوبارہ تقسیم مشکل ہے کیونکہ یورپی، خلیجی پروازوں کے لیے مختص سنگل ایلیو پلینز طویل فاصلے کے لیے موزوں نہیں ہیں اور ایندھن بچانے والے بڑے جدید طیارے کئی سالوں تک انتظار کی فہرست میں ہیں۔
مالی اثرات اور مارکیٹ پر دباؤ
مالی منڈیوں میں لوفتہانزا کے حصص جنگ کے آغاز سے تقریباً 17 فیصد کم ہوئے، برٹش ایئر ویز کی مالک IAG تقریباً 13 فیصد اور ایئر فرانس-کے ایل ایم تقریباً 27 فیصد گر گئے۔
مورگن اسٹینلی اور UBS جیسے اداروں نے ایندھن کی بڑھتی قیمت اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے کئی یورپی ایئر لائنز کی ہدفی قیمتیں کم کیں۔
قیمتوں پر اگلی جنگ
تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے خاتمے کے وقت سے قطع نظر، خلیجی ایئر لائنز دوبارہ مارکیٹ میں طاقتور واپسی کریں گی تاکہ اپنے حصے کو واپس حاصل کریں اور طویل فاصلے کی پروازوں میں قیمتوں کا سخت مقابلہ متوقع ہے، جس سے مسافروں اور مارکیٹ کے حصوں کی واپسی کی لڑائی میں قیمتوں کی جنگ ایک اہم ہتھیار بن جائے گی۔