اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

صدر ٹرمپ کے لہجے میں تبدیلی، علاقائی دباؤ یا ثالثی کی وجہ؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
فوٹو: سبق

ایک قابل توجہ اور تیز رفتار تبدیلی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت لہجے سے بات کرنے سے اچانک مکالمے کے لیے واضح آمادگی ظاہر کر دی۔

یہ تبدیلی علاقائی اور بین الاقوامی دباؤ کے بغیر نہیں سمجھی جا سکتی۔

ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹ رہنے کے لیے کلک کریں

ماضی قریب تک، ٹرمپ نے مذاکراتی میز پر واپسی کو مکمل طور پر مسترد کیا تھا، ایرانی قیادت کی سنجیدگی پر شک کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ ہم نہیں جانتے کہ کس سے معاملہ کر رہے ہیں۔

لیکن صرف چند دنوں میں صورتحال بدل گئی۔ 

امریکی صدر اب ’اہم معاہدے کے نکات‘ اور 15 نکاتی مجوزہ منصوبے کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’اس بار، ایرانی سنجیدہ ہیں‘۔

کثیر فریقی ثالثی

العربیہ کے مطابق پاکستان، ترکی، مصر اور سلطنت عمان سمیت کئی ممالک نے ثالثی کے عمل میں فعال کردار ادا کیا تاکہ ایک ایسا معاہدہ ممکن بنایا جا سکے جو تصادم کو روکے اور خلیج ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنائے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں

یہ کوششیں، جنہیں ’فعال سفارتکاری‘ قرار دیا گیا، محض رسمی اقدامات نہیں تھیں بلکہ اس میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست پیغامات کی ترسیل اور تفصیلی تجاویز تیار کرنا شامل تھا، جن میں امریکی 15 نکاتی فہرست بھی شامل تھی جو پاکستان کے ذریعے ایران کو پہنچائی گئی، اگرچہ بعض نکات کو ایران کے لیے ڈتقریباً ناممکن‘ قرار دیا گیا۔

اگرچہ ذرائع نے تصدیق کی کہ ابھی تک دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست مذاکرات نہیں ہوئے لیکن متعدد ثالثین کی موجودگی نے ایک غیر رسمی مذاکراتی حقیقت پیدا کر دی جو امریکی انتظامیہ پر اثرانداز ہوئی۔

علاقائی خدشات نے مفاہمت کی طرف دھکیل دیا

ٹرمپ کے موقف میں یہ تبدیلی خلیج میں اتحادیوں کی جانب سے واشنگٹن کو دی گئی وارننگز سے بھی الگ نہیں کی جا سکتی۔ 

ذرائع کے مطابق ایرانی بنیادی ڈھانچے، خاص طور پر توانائی کے شعبے کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں نے سنجیدہ خدشات پیدا کیے کہ ایران علاقے میں اہم تنصیبات، بشمول پانی کی تنصیبی پلانٹس، کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور پانی کی تنصیبی پلانٹس کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی اور کہا کہ اگر تہران کی تیل کی تنصیبات پر امریکی حملہ ہوا تو وہ متحدہ عرب امارات کے رhس الخیمہ کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

سفارتکاری پر داؤ

اس تبدیلی سے پہلے، ٹرمپ نے ایرانی توانائی کی تنصیبات کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی اور تصادم کے لیے وقت کی حد مقرر کی تھی لیکن سی این این کے مطابق یہ دھمکیاں ہرمز کی بحالی میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔

جہاں فوجی آپشن جلدی نتائج دینے میں ناکام رہا، امریکی انتظامیہ نے متعدد ممالک کے ذریعے تہران سے بالواسطہ رابطے بڑھا دیے تاکہ پیغامات ایران کے مختلف فیصلہ ساز مراکز تک پہنچ سکیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کھلا پن اس وقت سامنے آیا جب خود انتظامیہ کے اہلکار بھی مذاکرات کے وجود کی طرف اشارہ نہیں دے رہے تھے۔ 

وزیر خزانہ اسکاٹ بائسنت نے پہلے کہا تھا کہ ’کبھی کبھار تصادم ضروری ہوتا ہے‘۔

لیکن ٹرمپ نے اپنی دھمکیوں کے صرف چند گھنٹوں بعد ’جنگ ختم کرنے‘ کی بات شروع کی اور پھر مذاکرات کی موجودگی کی تصدیق کی جو امریکی صدر پر تیز رفتار سفارتی دباؤ اور حالات کے اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔