اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

عالمی تجارت پر لٹکی تلوار: آبنائے ہرمز سے کون گزرے گا ،کون نہیں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

عالمی توانائی کی شہ رگ کہلانے والی آبنائے ہرمز اس وقت ایک ایسے غیر یقینی دور سے گزر رہی ہے، جہاں روایتی بحری قوانین کی جگہ جنگی مفادات اور سیاسی سودے بازی نے لے لی ہے۔

مزید پڑھیں

اب سوال یہ نہیں رہا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے یا بند، بلکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ اس اہم ترین راہداری میں اب وہی گزر سکتا ہے جسے تہران غیر جانبدار  تسلیم کرے۔

اب یہ محض ایک بحری راستہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسی سیاسی بساط بن چکا ہے جہاں ہر جہاز کو اپنی شناخت ثابت کر کے گزرنے کا پروانہ حاصل کرنا پڑتا ہے۔

ایرانی دفاعی کونسل کی جانب سے جاری حالیہ بیان نے عالمی جہاز رانی کے بنیادی تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں

تہران کا مؤقف ہے کہ وہ ممالک جو اس جنگ میں فریق نہیں ہیں، وہ ایران کے ساتھ پیشگی رابطہ کاری کے بعد ہی محفوظ راستہ پا سکتے ہیں۔

اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اب سمندر میں سفر کرنا کوئی خودکار حق نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس کے لیے ایران سے کلئیرنس لینا لازمی ہے۔

لندن میں ایران کے سفیر اور عالمی بحری تنظیم (IMO) کے نمائندے علی موسوی کے مطابق یہ راستہ صرف ان جہازوں کے لیے بند ہے جن کا تعلق ایران کے دشمنوں سے ہے۔ 

strait of hormuz 1 1
(فوٹو: الجزیرہ)

اس ’سیاسی چھانٹی‘ نے سمندر کو ایک ایسی تجربہ گاہ بنا دیا ہے، جہاں جہاز کے جھنڈے اس کے عملے کی قومیت اور اس کی منزل یہ طے کرتی ہے کہ اسے راستہ ملے گا یا نہیں۔

اس نئی صورتحال اور ضوابط کی عملی شکل اب سمندر میں نظر آنے لگی ہے۔ 

ڈیٹا ٹریکنگ کے مطابق بھارت کے 2 ایل پی جی  ٹینکرزپائن گیس اور  جگ وسنت اس اسٹریٹیجک گزرگاہ کو عبور کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ پائن گیس نے اپنے شناختی نظام پر واضح پیغام نشر کیا کہ ’بھارتی جہاز اور بھارتی عملہ‘۔

آج کے حالات میں یہ محض تکنیکی معلومات نہیں بلکہ ’بقا کا پیغام‘ ہے، جس کا مقصد تہران کو یہ بتانا ہے کہ یہ جہاز کسی دشمن کا حصہ نہیں ہے۔ 

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جہاں یہ 2 جہاز گزرنے میں کامیاب ہوئے، وہیں مجموعی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ رائٹرز کے مطابق جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بحری ٹریفک میں 95 فیصد تک کمی آ چکی ہے اور تقریباً 20 ہزار بحری عملہ اس وقت خلیج میں پھنسا ہوا ہے۔

strait of hormuz
(فوٹو: انٹرنیٹ)

آبنائے ہرمز کا بحران اب صرف ایران کا اندرونی معاملہ نہیں رہا بلکہ ایک عالمی سفارتی محاذ بن چکا ہے۔

جنوبی کوریائی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب سے براہِ راست رابطہ کر کے اپنے 20 سے زائد جہازوں اور 100 سے زائد عملے کی حفاظت کی ضمانت مانگی ہے۔ 

واضح رہے کہ جنوبی کوریا اپنی ضرورت کا 70 فیصد تیل اور 20 فیصد ایل این جی اسی خطے سے حاصل کرتا ہے۔

اسی طرح بحرین نے سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کی تجویز دی ہے جس میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری وسائل استعمال کرنے کی اجازت مانگی گئی ہے۔ 

اس تجویز کو خلیجی ممالک اور امریکہ کی حمایت حاصل ہے، تاہم روس اور چین کی جانب سے ویٹو  کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔

مبصرین کے مطابق عالمی منڈیوں کے لیے سب سے بڑی الجھن میزائل یا بارودی سرنگیں نہیں، بلکہ طے شدہ قواعد کا نہ ہونا ہے۔ 

strait of hormuz 2 1
(فوٹو: الجزیرہ)

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی تجارت واضح بندش یا واضح کھلے پن کے ساتھ تو سمجھوتا کر سکتی ہے، لیکن استثنا پر مبنی نظام کو قبول نہیں کرتی۔ یعنی کچھ جہاز گزر جائیں اور سیکڑوں انتظار کرتے رہیں

اس کے نتیجے میں بیمہ (انشورنس) کی قیمتیں اور ترسیل کے اخراجات آسمان کو چھونے لگتے ہیں۔

ایران نے وارننگ بھی دی ہے کہ اگر اس کے ساحلوں یا جزائر پر کوئی حملہ ہوا تو وہ پورے خلیج کے راستوں کو بارودی سرنگوں سے بھر دے گا، جس کے بعد یہ پوری آبی پٹی آبنائے ہرمز جیسی خطرناک صورتحال کا شکار ہو جائے گی۔ 

فی الحال آبنائے ہرمز نہ تو مکمل بند ہے اور نہ ہی پہلے جیسی کھلی، لیکن یہ ایک ایسا راستہ بن چکا ہے ،جہاں سے گزرنے کی قیمت سیاسی وفاداری یا سخت مذاکرات سے چکانی پڑے گی۔