اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ایک خفیہ ٹیلی فونک گفتگو کے نتیجے میں ایران پر بڑے فوجی حملے کی راہ ہموار ہوئی۔
مزید پڑھیں
اخبار 24 کی رپورٹ کے مطابق اس خفیہ کال میں نیتن یاہو نے ٹرمپ کو آپریشن شروع کرنے پر قائل کیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ اہم رابطہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملے کے آغاز سے محض 48 گھنٹے قبل ہوا تھا۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ایک پیچیدہ فوجی کارروائی کے جواز پر تبادلہ خیال کیا جس پر صدر ٹرمپ پہلے تحفظات رکھتے تھے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس معلومات سے پتا چلا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اپنے اعلیٰ معاونین کے ساتھ تہران میں ملاقات کریں گے۔
یہ اطلاع ہی دراصل ایرانی قیادت کے خاتمے کی کارروائی کا آسان ہدف بنانے میں معاون بنی۔
تازہ ترین انٹیلی جنس معلومات کے مطابق سپریم لیڈر کی ملاقات کا وقت ہفتے کی رات کے بجائے ہفتے کی صبح مقرر کیا گیا تھا اور اس تبدیلی کی اطلاع 3 باخبر ذرائع نے دی تھی۔
نیتن یاہو نے اس موقع پر زور دیا کہ سپریم لیڈر کو ختم کرنے کا یہ سنہری موقع دوبارہ نہیں ملے گا۔
انہوں نے ٹرمپ کو یاد دلایا کہ یہ کارروائی ان کی جان لینے کی سابقہ ایرانی کوششوں کا بھرپور انتقام ثابت ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اصولی طور پر فوجی کارروائی کے لیے تیار تھے مگر وہ وقت اور حالات کا تعین نہیں کر پا رہے تھے۔
اس سلسلے میں نیتن یاہو کے ساتھ گفتگو نے 27 فروری کو حتمی فیصلے میں کلیدی کردار ادا کیا اور صدر ٹرمپ نے 27 فروری ہی کو باقاعدہ طور پر ’آپریشن ایپک فیوری‘شروع کرنے کے احکامات جاری کیے۔
نیتن یاہو نے دلیل دی کہ ایرانی قیادت کا خاتمہ کر کے ٹرمپ تاریخ رقم کر سکتے ہیں کیونکہ یہ حکومت عالمی دہشت گردی کا مرکز ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا مؤقف تھا کہ ایرانی عوام 1979ء سے اس نظام کے خلاف ہیں اور حالیہ حملے کے بعد نہ صرف خطے میں استحکام آئے گا بلکہ ایرانی عوام کو بھی جابرانہ حکومت سے نجات مل سکے گی۔
یاد رہے کہ ایران کے خلاف اس جنگ کا باقاعدہ آغاز 28 فروری کو ہوا، جس کے بعد صورتحال تیزی سے تبدیل ہوئی اور اسی روز شام کو ٹرمپ نے باضابطہ طور پر ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔