اہم خبریں
6 May, 2026
--:--:--

ایران اب غنڈہ نہیں رہا، ٹرمپ کی نئی فوجی کارروائی کی دھمکی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران اب مشرقِ وسطیٰ کا بدمعاش نہیں رہا جو اپنے ہمسایہ ممالک کو خوفزدہ کرتا تھا۔

مزید پڑھیں

سماجی رابطوں کے اپنے پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران اب خطے میں ’سب سے بڑا نقصان اٹھانے والا ملک‘ بن چکا ہے اور اسے ابھی مزید سخت فوجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر ایران کے خلاف نئی اور زیادہ سخت کارروائی بھی کر سکتا ہے۔

ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں

خطے کے ممالک کی حمایت کا دعویٰ

صدر ٹرمپ نے بیان میں دعویٰ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک نے ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے پر امریکی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اِن ممالک کے رہنماؤں نے میرا شکریہ ادا کیا کہ امریکا نے ایران کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس پر میں نے انہیں ویلکم کہا۔

ایران اب مشرقِ وسطیٰ کا غنڈہ نہیں

اپنے بیان میں امریکی صدر نے ایران کی علاقائی حیثیت پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ تہران اب وہ طاقت نہیں رہا جو خطے میں اپنی مرضی مسلط کرتا تھا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران اب مشرقِ وسطیٰ کی دھونس جمانے والی طاقت نہیں رہا بلکہ اب وہ خطے کا سب سے بڑا خسارہ اٹھانے والا ملک بن چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ خطے کی موجودہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے، یہاں تک کہ ایران یا تو دباؤ کے سامنے جھک جائے یا مکمل طور پر کمزور ہو جائے۔

نئے اور بڑے حملوں کی دھمکی

ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کو ایک اور سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ تہران کو آج ایک بہت سخت ضرب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ واشنگٹن مزید ایسے اہداف پر حملے پر غور کر رہا ہے جو پہلے امریکی ہدف فہرست میں شامل نہیں تھے۔ اس ممکنہ اقدام کی وجہ ایران کا وہ رویہ ہے جسے انہوں نے غلط اور خطرناک طرزِ عمل قرار دیا تھا۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور خدشہ ہے کہ یہ تنازع وسیع فوجی تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران کے صدر مسعود بزشکیان نے خطے کے ممالک سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو اپنے پڑوسیوں سے کوئی دشمنی نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران پڑوسی ممالک کے خلاف حملے بند کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ ان کی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائی نہ ہو۔

حالیہ فوجی کارروائی کا پس منظر

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس کارروائی کی وجہ ایران کے مبینہ میزائل اور جوہری خطرات تھے۔

ان حملوں میں ایران کی اہم شخصیات ہلاک ہوئیں، جن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور چیف آف جنرل اسٹاف عبدالرحیم موسوی شامل تھے۔