وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ خطے کی کشیدہ صورت حال کے باوجود مملکت کی معاشی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
مزید پڑھیں
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے ایک ذمہ دار ذریعے نے کہا ہے کہ مملکت کی معیشت میں مختلف شعبوں کی سرگرمیاں پورے ملک میں معمول کے مطابق جاری ہیں اور موجودہ علاقائی صورتحال کے باوجود اقتصادی نظام پر کوئی غیر معمولی اثر نہیں پڑا۔
واضح رہے کہ یہ معلومات مغربی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے حوالے سے بھی سامنے آئی ہیں۔
بیان کے مطابق حکومت مسلسل معاشی اور مالیاتی اشاریوں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ صورتحال کی مکمل نگرانی کی جا سکے۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں
وزارت کے ذریعے نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مملکت کی مالی پوزیشن بدستور مضبوط ہے اور درمیانی مدت کے لیے بھی معیشت کے حوالے سے توقعات مثبت ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق سعودی عرب کے پاس توانائی برآمد کرنے کے لیے مختلف راستے موجود ہیں، جن میں بحیرہ احمر کے ذریعے برآمدات بھی شامل ہیں۔
اس وجہ سے مملکت کے پاس تیل اور توانائی کی ترسیل کے لیے متبادل راستے موجود ہیں جو کسی بھی ممکنہ صورتحال میں سپلائی کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
بیان کے مطابق علاقائی کشیدگی کے باوجود توانائی کی برآمدات کے لیے قائم بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہے۔
وزارت کے مطابق توانائی کی عالمی منڈیوں نے حالیہ پیش رفت پر ردعمل ظاہر کیا ہے اور اس وقت تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔