سعودی کونسل آف انجینئرز نے انجینئرنگ پیشوں کے ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانے کے سلسلے میں جازان ریجن کے ایک بڑے منصوبے پر فیلڈ معائنہ کیا، جہاں ایک کنٹریکٹنگ کمپنی میں 55 افراد کو بغیر پیشہ ورانہ منظوری (لائسنس) کے انجینئرنگ اور فنی کام کرتے ہوئے پکڑا گیا۔
مزید پڑھیں
اتھارٹی کے مطابق مملکت میں کسی بھی انجینئرنگ کام کے لیے پیشہ ورانہ منظوری حاصل کرنا قانونی شرط ہے، جو کارکنوں کی اہلیت، منصوبوں کی سلامتی اور نتائج کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے بنیادی تقاضا ہے۔
ادارے کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والے افراد اور اداروں کو قانونی کارروائی سے گزرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ کارروائی سے قبل اتھارٹی نے ’منظور شدہ یا نہیں‘ مہم
کے تحت غیر لائسنس یافتہ کارکنوں کو ’ابشر‘ پلیٹ فارم پر درج ان کے موبائل نمبروں پر پیغامات بھیجے تھے، تاکہ وہ قانونی اقدامات سے پہلے اپنی پیشہ ورانہ منظوری مکمل کر لیں۔
اتھارٹی نے بتایا کہ متعلقہ کمپنی اور خلاف ورزی کرنے والے افراد کو قانونی کارروائی کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔ ادارے نے یہ بھی واضح کیا کہ مملکت کے مختلف علاقوں میں اس نوعیت کے معائنے بغیر کسی استثنا کے جاری رہیں گے۔
سعودی کونسل آف انجینئرز کے مطابق یہ اقدامات پیشے کے تحفظ، قوانین کی پابندی کے نفاذ اور معاشرے کی سلامتی کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔