ایک حالیہ عالمی سروے سے معلوم ہوا ہے کہ سعودی عرب میں 20 فیصد صارفین 2026ء کے دوران سفر پر اپنے اخراجات کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شرح گزشتہ سال کے 23 فیصد کے مقابلے میں کم ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صارفین مکمل کفایت شعاری کے بجائے مالی ترجیحات کو نئے انداز میں ترتیب دے رہے ہیں۔
اس نئے اور بدلتے رجحان کے باوجود سعودی صارفین کا مجموعی اعتماد اور عزم اب بھی عالمی سطح پر نمایاں طور پر مضبوط ہے۔
عالمی موازنے میں برتری
کنسلٹنگ کمپنی Alix Partners کی رپورٹ “Global Consumer Outlook” کے مطابق سعودی عرب میں صارفین کے اخراجات کے ارادوں میں +4 پوائنٹس کا خالص اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ عالمی سطح پر -18 پوائنٹس کی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
یہ سروے 9 ممالک میں 13 ہزار سے زائد صارفین کی آرا پر مبنی تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی مارکیٹ عالمی دباؤ کے باوجود مستحکم ہے۔
مستحکم اعتماد اور متوازن ترقی
رپورٹ کے مطابق:
• 38 فیصد صارفین 2026ء میں اپنے موجودہ اخراجات برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
• جبکہ 33 فیصد اخراجات بڑھانے کا سوچ رہے ہیں۔
• یہ رجحان خاص طور پر 18 سے 44 سال کی عمر کے افراد اور زیادہ آمدنی والے طبقے میں نمایاں ہے۔
یہ مسلسل تیسرا سال ہے جب سعودی صارفین کا اعتماد برقرار رہا ہے۔ اس کی وجوہات میں تقریباً 2 فیصد کے قریب کم افراطِ زر، بے روزگاری میں کمی اور خواتین کی لیبر مارکیٹ میں بڑھتی شرکت شامل ہیں۔
کارل نادر، مینیجنگ ڈائریکٹر Alex Partners کے مطابق سعودی معیشت کی مضبوطی اور وژن 2030 کے اقدامات نے خاندانوں کی آمدن میں اضافہ اور نئے مواقع پیدا کیے ہیں، جس کے نتیجے میں صارفین قدر، معیار اور تجربے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
اخراجات کی ترجیحات
سروے کے مطابق 2026ء کے لیے اخراجات کی ترجیحات میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے مطابق:
• 15 فیصد نے خوراک کو اولین ترجیح قرار دیا۔
• 12 فیصد غیر غذائی ریٹیل اشیا پر توجہ دے رہے ہیں۔
• 10 فیصد ریسٹورنٹس اور باہر کھانے پر خرچ بڑھانا چاہتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صارفین میں بچت کی خواہش میں بھی کمی آئی ہے، جس کے مطابق 23 فیصد افراد اپنی بچت کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 28 فیصد تھی۔
سفر کی طلب برقرار
اگرچہ سعودی مارکیٹ میں سفر کی طلب اب بھی مضبوط ہے، تاہم کچھ صارفین زیادہ محتاط اور انتخابی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہشام عبد الخالق کے مطابق صارفین مکمل کفایت شعاری اختیار نہیں کر رہے بلکہ تجربے اور قدر کے درمیان توازن پیدا کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مقابلہ صرف قیمتوں تک محدود نہیں رہا۔اگرچہ 37 فیصد صارفین قیمت یا آفر کی بنیاد پر ریسٹورنٹس تبدیل کرلیتے ہیں لیکن پھر بھی:
• 29 فیصد صارفین سروس کے معیار کو اہم سمجھتے ہیں۔
• 24 فیصد متنوع انتخاب کو ترجیح دیتے ہیں۔
• 22 فیصد مثبت ریویوز کو فیصلہ کن عنصر قرار دیتے ہیں۔
مزید یہ کہ صرف 4 فیصد صارفین کسی ایک برانڈ سے مکمل وفاداری رکھتے ہیں، جو مسابقتی ماحول کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
صحت اور طرزِ زندگی
رپورٹ میں صحت سے متعلق رجحانات بھی نمایاں رہے، جس کے مطابق:
• 50 فیصد صارفین صحت مند طرزِ زندگی کی پیشکش پر برانڈ تبدیل کرنے کو تیار ہیں۔
• 44 فیصد شعوری خریداری کو اہمیت دیتے ہیں۔
• 43 فیصد تحفظ اور اطمینان کو ترجیح دیتے ہیں۔
علاوہ ازیں فٹنس اور ویل بیئنگ (صحت اور خوشحالی) سیکٹر میں صارفین نے خرچ مکمل طور پر روکنے کے بجائے رعایتوں اور خصوصی آفرز کی تلاش کو ترجیح دی ہے۔
ڈیجیٹل تبدیلی
اسی رح ڈیجیٹل ٹولز کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ریکارڈ ہو رہا ہے، جس کے مطابق:
• 74 فیصد صارفین کے نزدیک ڈیجیٹل سہولیات گزشتہ سال جتنی یا اس سے زیادہ اہم ہو چکی ہیں۔
• 73 فیصد اب بھی ذاتی اور براہِ راست تعامل کو اہم سمجھتے ہیں۔
جبکہ خریداری کے نمایاں شعبوں میں:
• 46 فیصد گروسری
• 40 فیصد ملبوسات
• 39 فیصد ریسٹورنٹس شامل ہیں۔
اس حوالے سے مصنوعی ذہانت کا استعمال بھی دن بہ دن بڑھ رہا ہے اور تقریباً 37 فیصد صارفین خریداری کے دوران ChatGPT جیسی ایپس یا فٹنس کے لیے ورچوئل کوچز استعمال کر رہے ہیں۔
سعودی مارکیٹ کی پختگی
مطالعے کے مطابق یہ رجحانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعودی صارف اب زیادہ باشعور، انتخابی اور متوازن فیصلے کر رہا ہے۔
عالمی منڈیوں میں سکڑاؤ کے باوجود سعودی عرب میں مثبت اخراجاتی رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اقتصادی تنوع کی پالیسی اور مقامی طلب کی مضبوطی نے مارکیٹ کو مستحکم رکھا ہے۔
اگرچہ 2026ء میں کچھ صارفین سفر پر اخراجات کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، مگر مجموعی تصویر ایک ایسے بازار کی عکاسی کرتی ہے جو اعتماد، استحکام اور سمجھ دار فیصلہ سازی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
سعودی صارفین اب صرف خرچ نہیں کرتے بلکہ سوچ سمجھ کر خرچ کرتے ہیں اور یہی رجحان آنے والے برسوں میں معیشت کی پائیدار ترقی کا بنیادی ستون بن سکتا ہے۔