کویت کی جنرل اتھارٹی برائے مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سربراہ ڈاکٹر خالد الزامل نے کہا ہے کہ کویت نے ڈیجیٹل تعاون تنظیم کی خصوصی صدارت کے دوران آن لائن گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ سے نمٹنے کو اپنی اولین ترجیح بنایا اور اسی تناظر میں تنظیم کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل میڈیا کی تصدیق کے لیے نئے معیارات اور طریقۂ کار تیار کیے گئے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر خالد الزامل نے بتایا کہ کویت نے اپنی صدارت کے دوران رکن ممالک کے درمیان معلومات اور مالی لین دین کی آزادانہ نقل و حرکت کو فروغ دینے پر توجہ دی اور ایسی سرگرمیوں کی سرپرستی کی جن کے ذریعے ایک کھلی ڈیجیٹل منڈی کے قیام کی راہ ہموار ہو۔
انہوں نے بتایا کہ اِن اقدامات کے نتیجے میں تقریباً 60 چھوٹی اور
درمیانی درجے کی کمپنیوں کو سرحد پار مالیاتی سرگرمیاں چلانے اور نئے کاروبار قائم کرنے کا موقع ملا، جس سے سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کے لیے وسیع تر علاقائی منڈیوں تک رسائی ممکن ہوئی۔
ڈاکٹر الزامل کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل تعاون تنظیم کا بنیادی مقصد ڈیجیٹل ترقی کے عمل کو تقویت دینا اور کاروباری افراد، خواتین اور ترقی پذیر ممالک کو بااختیار بنانا ہے، تاکہ ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں موجود ڈیجیٹل خلا کو کم کیا جا سکے اور تیزی سے بدلتے تکنیکی ماحول میں ان کی مؤثر شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر خالد کے مطابق ’ڈیجیٹل اکانومی انڈیکیٹر‘ کے نام سے متعارف کرائے جانے والے نئے ٹول کے ذریعے ممالک کو ڈیجیٹل تبدیلی کے میدان میں جامع جائزہ فراہم کیا جائے گا، جس سے ڈیجیٹل طاقتوں، کمزوریوں اور بہتری کے مواقع کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی اور اس کے ذریعے ڈیٹا پر مبنی اسٹریٹیجک فیصلوں لے کر اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکے گا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈیجیٹل مارکیٹس کے کھلنے سے نئی کمپنیوں کی مسابقت میں اضافہ ہوتا ہے اور انہیں اپنی سرگرمیاں مقامی حدود سے باہر پھیلانے کے مواقع ملتے ہیں، جو اختراع اور معاشی وسعت کے لیے اہم عنصر ہے۔
گفتگو کے اختتام پر کویتی عہدیدار نے نشاندہی کی کہ بین الاقوامی ترقیاتی اور غیر منافع بخش تنظیموں کو درپیش بڑے چیلنجز میں پائیدار مالی وسائل کی فراہمی شامل ہے، جس کے حل کے لیے رکن ممالک کے درمیان مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ ڈیجیٹل پروگراموں اور منصوبوں کی معاونت کی جا سکے اور حقیقی ترقیاتی اثرات حاصل کیے جا سکیں۔