اہم خبریں
6 May, 2026
--:--:--

سعودی عرب سرمایہ کاری کا مرکز، غیرملکی کمپنیوں میں 10 گنا اضافہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: ایکس)

وزیرِ سرمایہ کاری انجینئر خالد بن عبدالعزیز الفالح نے کہا ہے کہ مملکت میں سرمایہ کاری کے ماحول کی مضبوطی کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 10 گنا بڑھ گئی ہے اور اب تقریباً 700 غیر ملکی کمپنیاں سعودی عرب کو اپنا علاقائی اور عالمی ہیڈکوارٹر بنا چکی ہیں، جو قیادت کی ہدایات اور پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی ازسرِنو تنظیم کا براہِ راست نتیجہ ہے۔

مزید پڑھیں

یہ بات انہوں نے پی آئی ایف ،پرائیویٹ سیکٹر فورم 2026 میں ’جب حکومت کاروبار کے فروغ کے لیے پرعزم ہو‘کے عنوان سے منعقدہ مکالماتی نشست میں کہی، جہاں انہوں نے نجی شعبے کو سعودی معیشت کا اصل محرک اور اقتصادی تبدیلی کے سفر میں کامیابی کا بنیادی شراکت دار قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے شعبے میں حاصل ہونے والی کامیابیاں 

دور اندیش قیادت کی رہنمائی اور سرکاری اداروں کی مؤثر معاونت سے ممکن ہوئی ہیں، جن میں پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی تنظیمِ نو ایک نمایاں قدم ثابت ہوا ہے۔

وزیرِ سرمایہ کاری نے بتایا کہ ولی عہد نے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے کردار کو ازسرِنو متعین کرتے ہوئے اسے تیل پر روایتی انحصار سے ہٹ کر اقتصادی تنوع اور پائیدار ترقی کا مرکزی محرک بنایا، جس کے ذریعے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خطے اور عالمی معیشت کے مستقبل کی تشکیل میں کردار ادا کیا جا رہا ہے۔

saudi economy 1
(فوٹو: انٹرنیٹ)

انہوں نے وضاحت کی کہ اکتوبر 2020 میں شروع کی گئی قومی سرمایہ کاری حکمتِ عملی کا ہدف 2030 سے قبل ملکی معیشت میں سرمایہ کاری کا حصہ 30 فیصد تک بڑھانا تھا، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 12 ٹریلین ریال رکھی گئی اور اس حکمتِ عملی کے آغاز کے ساڑھے 3 برس کے اندر ہی اس ہدف کا نصف سے زائد حصہ حاصل کر لیا گیا ہے، جہاں سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 6.2 ٹریلین ریال تک پہنچ چکا ہے اور ہر سال اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

خالد الفالح کے مطابق غیر تیل (نان آئل) معیشت میں سرمایہ کاری کا تناسب 40 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے، جو ایک تاریخی سطح ہے اور سعودی عرب کو عالمی درجے پر سرمایہ کاری کے بڑے مراکز میں شامل کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت کے نتیجے میں سرمایہ کاری میں اضافے نے مملکت کو ترقی یافتہ معیشتوں کے برابر لا کھڑا کیا ہے۔

saudi economy 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

انہوں نے کہا کہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کا بنیادی کردار نجی شعبے کے لیے سرمایہ کاری کو متحرک کرنا، روابط پیدا کرنا اور ویلیو چینز کی تیاری ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت تقریباً 95 فیصد سرمایہ کاری نجی شعبے کے ذریعے ہوئی، جبکہ فنڈ کی براہِ راست سرمایہ کاری مجموعی حجم کا لگ بھگ 10 فیصد رہی، جس سے حکومتی سرمایہ کاری میں کمی اور نجی شعبے میں مسابقت کو فروغ ملا۔

وزیرِ سرمایہ کاری نے بتایا کہ مملکت کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کشش کے باعث غیر ملکی کمپنیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور توقع ہے کہ 2025 کے حتمی اعداد و شمار 2019 کے مقابلے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے بہاؤ میں 5 گنا اضافہ ریکارڈ کریں گے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے تحت قائم ہونے والے نئے شعبوں نے نجی سیکٹر کے لیے وسیع مواقع پیدا کیے اور عالمی سرمایہ کاری فنڈز و بڑی فنانسنگ کمپنیوں کو مملکت کی جانب راغب کیا، جس سے سرمایہ کاری کے ذرائع کا نیا دور شروع ہوا اور روایتی مالیاتی چینلز پر انحصار کم ہوا۔

اسی تناظر میں خالد الفالح نے کہا کہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے اثاثوں میں تیز رفتار اضافے نے اسٹریٹیجک شعبوں اور بڑے قومی منصوبوں کو تقویت دی ہے، جن میں فیفا ورلڈ کپ 2034، ایکسپو 2030 اور ان سے جڑے انفرا اسٹرکچر منصوبے شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی سپلائی چینز میں سرمایہ کاری کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔

saudi economy investment private partnership business
(فوٹو: اے آئی)

وزیرِ سرمایہ کاری کے مطابق فنڈ توانائی، ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر، ڈیٹا سینٹرز، ٹیکنالوجی لوکلائزیشن اور سپلائی چینز میں نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے جامع نظام قائم کر رہا ہے اور اس عمل میں مقامی سرمایہ کاروں، خاندانوں اور قومی فنڈز کی شمولیت کو فروغ دینا بین الاقوامی اعتماد اور معیشت کی مالی استعداد بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط کیا جائے، جہاں نجی شعبہ آپریشن و عمل درآمد کی قیادت کرے اور فنڈ سرمایہ کاری کو ممکن بنانے کا کردار ادا کرے۔ اس حوالے سے کامیاب مثالیں پہلے ہی موجود ہیں۔

وزیرِ سرمایہ کاری نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اور نجی شعبے کا یہ مثالی تعاون قیادت کی رہنمائی میں سعودی عرب کو پائیدار اقتصادی ترقی کے ایک نئے دور میں داخل کر رہا ہے ، جس سے مملکت عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط اور پرکشش مرکز کے طور پر مستحکم ہو رہی ہے۔