اہم خبریں
9 May, 2026
--:--:--

40 کی دہائی میں زندگی کا سب سے زیادہ دباؤ محسوس ہوتا ہے، تحقیق

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
(فوٹو: اے آئی)

انسانی زندگی کا ہر دور اپنی ایک الگ یاد اور پہچان رکھتا ہے، تاہم حالیہ طبی تجزیے کے مطابق 40 کی دہائی وہ مرحلہ ہے جہاں جسمانی اور ذہنی تھکن (دباؤ) اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔

مزید پڑھیں

یہ بات The Conversation میں شائع ہونے والے صحت کے ایک تجزیے میں سامنے آئی ہے، جس کے مطابق یہ تھکن کسی اچانک جسمانی زوال کا نتیجہ نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی جسمانی تبدیلیوں اور زندگی کی بڑھتی ذمہ داریوں کے ایک ساتھ جمع ہو جانے کا اثر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی و جسمانی دباؤ کی یہ کیفیت مستقل نہیں رہتی، درست طرزِ زندگی کے ذریعے اس سے نمٹا جا سکتا ہے۔

stress 5
(فوٹو: اے آئی)

40 کی دہائی ہی کیوں؟

برطانیہ کی بریسٹل یونیورسٹی سے وابستہ اناٹومی کی پروفیسر ڈاکٹر مشیل اسپیر کے مطابق 40 کی دہائی کو اکثر زندگی کے ’سب سے زیادہ تھکا دینے والے 10 سال‘ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس دوران کام، خاندان، ذہنی دباؤ اور جسمانی تبدیلیاں بیک وقت شدت اختیار کر لیتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جسم میں توانائی میں کمی کو حتمی فیصلہ یا ناامیدی سمجھ لینا درست نہیں، کیونکہ وقت کے ساتھ جسم کا حیاتیاتی نظام اور روزمرہ کی ذمہ داریاں بدلتی ہیں، جس سے توانائی دوبارہ متوازن ہو سکتی ہے۔

stress 3
(فوٹو: اے آئی)

20 کی دہائی اور اس کی اہمیت

تجزیے کے مطابق 20 کی دہائی انسانی صحت کے اعتبار سے ایک مضبوط مرحلہ ہوتی ہے۔ اس دور میں جسمانی عضلات کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو نہ صرف شوگر لیول کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ روزمرہ حرکات میں توانائی کے ضیاع کو بھی کم کرتی ہے۔

عضلات کا میٹابولزم اس دہائی میں آرام کی حالت میں بھی فعال رہتا ہے، جس سے بنیادی میٹابولک ریٹ بلند رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس مرحلے پر خلیوں کے اندر موجود مائٹوکانڈریا(جنہیں توانائی کے مراکز کہا جاتا ہے) زیادہ مؤثر طریقے سے کام کرتے ہیں اور سوزش پیدا کرنے والے عناصر نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ اس دور میں نیند بھی زیادہ مؤثر رہتی ہے، خواہ اس کا دورانیہ کم ہی کیوں نہ ہو۔

ڈاکٹر اسپیر کے مطابق ’بیس کی دہائی میں توانائی کا حامل جسم زیادہ برداشت والا ہوتا ہے‘۔

جسمانی صلاحیت اور ذمہ داریوں کا ٹکراؤ

تجزیے کے مطابق 30 کی دہائی کے اختتام کے بعد اگر باقاعدہ جسمانی سرگرمی نہ ہو تو عضلاتی مادوں میں کمی شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خلیوں میں موجود توانائی کی کارکردگی بھی بتدریج کم ہونے لگتی ہے، جس کے باعث جسم کو دباؤ، نیند کی کمی اور تھکن سے بحالی میں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔

اسی دوران نیند کا معیار متاثر ہوتا ہے، گہری نیند کم ہو جاتی ہے اور تھکن وقت کے ساتھ جمع ہوتی رہتی ہے۔

stress 2
(فوٹو: اے آئی)

ذہنی دباؤ اور خاندانی احساسات

40 کی دہائی اکثر پیشہ ورانہ زندگی کے عروج کا زمانہ ہوتی ہے، جہاں کام کی ذمہ داریاں سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی پرورش، مالی دباؤ اور خاندان کی دیگر ذمہ داریاں اور ان کا احساس ذہنی بوجھ کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔

یہ ذہنی دباؤ جسمانی تھکن کے ساتھ مل کر مجموعی توانائی کو نمایاں طور پر متاثر کرتا ہے۔

خواتین میں ہارمونل تبدیلیاں

تجزیے میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ بہت سی خواتین کے لیے 40 کی دہائی ہارمونل اتار چڑھاؤ کا دور ہوتی ہے، خاص طور پر وہ سال (حیض کا بند ہونا) (Menopause) سے پہلے آتے ہیں۔

ان تبدیلیوں کے باعث جسمانی درجہ حرارت میں بے ترتیبی، نیند میں خلل اور توانائی کی سطح میں کمی جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں، جو مجموعی تھکن کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔

stress 4
(فوٹو: اے آئی)

60 کی دہائی اور اس کے بعد

تجزیے کے نتائج سے پتا چلا ہے کہ عمر کے اگلے مراحل میں ہارمونل نظام نسبتاً مستحکم ہو سکتا ہے اور روزمرہ کی ذمہ داریاں بھی نسبتاً کم یا سادہ ہو جاتی ہیں۔

ڈاکٹر اسپیر کے مطابق 60 اور 70 کی دہائی میں بھی طاقت بڑھانے والی ورزشیں چند ہی مہینوں میں توانائی کی سطح کو بہتر بنا سکتی ہیں، بشرطیکہ انہیں مستقل طور پر اپنایا جائے۔

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جسمانی سرگرمی، خاص طور پر اسٹرینتھ ٹریننگ، عمر کے کسی بھی مرحلے میں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک فعال طرزِ زندگی نہ صرف جسمانی طاقت میں اضافہ کرتا ہے بلکہ ذہنی توانائی اور خود اعتمادی کو بھی بہتر بناتا ہے۔

ڈاکٹر مشیل اسپیر کے مطابق 60 ساٹھ یا 70 کی دہائی میں تھکن کسی لازمی بگاڑ کی علامت نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ زندگی کے اصول بدل چکے ہیں اور جسم کو حرکت، آرام اور غذائیت کے نئے طریقوں کی ضرورت ہے۔

یہی وجہ ہے کہ 40 کی دہائی اگرچہ سب سے زیادہ تھکا دینے والا دور کہلا سکتی ہے لیکن یہ زندگی کے زوال کا نہیں بلکہ خود کو نئے انداز سے سمجھنے اور سنوارنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔