سعودی ایئرلائنز طیارہ ساز کمپنیوں بوئنگ اور ایئربس کے ساتھ خریداری کے لیے تاریخ کا سب سے بڑا سودا کرنے کے سلسلے میں مذاکرات کررہی ہے۔
مزید پڑھیں
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق سعودی ایئرلائنز نے بوئنگ اور ایئربس کے ساتھ ابتدائی مذاکرات شروع کر دیے ہیں، جن کا مقصد طیارے خریدنے کے لیے کمپنی کی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ کرنا ہے۔
سعودی ایئرلائنز اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے خود کو عالمی سطح کے سفری اور سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے، جس سے مسافروں کو اعلیٰ معیار کی سہولیات میسر آئیں گی۔
معاملے سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے الشرق کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی ایئرلائنز کم از کم 150 طیارے خریدنے کی خواہاں ہے، جن میں سنگل آئل اور وائڈ باڈی طیارے شامل ہوں گے، تاہم کمپنی نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ کون سے ماڈلز اور کتنی تعداد میں طیارے بوئنگ یا ایئربس سے لیے جائیں گے۔
شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع نے مزید بتایا کہ چونکہ بات چیت تاحال خفیہ اور ابتدائی مرحلے میں ہے، اس لیے حتمی فیصلے سامنے نہیں آئے۔
ذرائع کے مطابق نئے طیارے سعودی ایئرلائنز کے موجودہ تقریباً 200 طیاروں پر مشتمل بیڑے کے ایک حصے کی جگہ لیں گے، جس کے نتیجے میں مجموعی بیڑے کے حجم میں بھی اضافہ ہوگا، تاہم یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مذاکرات ابھی ابتدائی سطح پر ہیں اور ضروری نہیں کہ یہ بات چیت کسی حتمی معاہدے پر منتج ہو۔
اس معاملے پر بوئنگ اور ایئربس دونوں کمپنیوں نے فی الوقت تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ سعودی ایئرلائنز کی جانب سے بھی تبصرے کی درخواست پر فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
تقریباً 80 سال قبل قائم ہونے والی سعودی ایئرلائنز اس سے قبل بھی طیارے خریدنے کے بڑے معاہدے کر چکی ہے۔ 2024ء میں ایئرلائنز نے ایئربس سے 105 سنگل آئل طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا تھا، جبکہ اس سے ایک سال قبل بوئنگ سے 30 سے زائد 787 ڈریم لائنر طیاروں کا آرڈر دیا گیا تھا، جس کے ساتھ مزید 10 طیارے خریدنے کا آپشن بھی شامل تھا۔
واضح رہے کہ ریاستی ملکیت سعودی ایئرلائنز کو اب زیادہ توجہ حج اور عمرہ پروازوں پر مرکوز کرنے کے لیے ازسرِنو ترتیب دیا جا رہا ہے، جبکہ نئی قائم ہونے والی ریاض ایئرلائنز مستقبل میں اپنی پروازیں شروع ہونے پر سیاحوں کو سہولیات فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔