عالمی ادارۂ صحت اور انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کی ایک نئی عالمی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں کینسر کے تقریباً 40 فیصد کیسز ایسے عوامل سے جڑے ہوئے ہیں جن سے بروقت اقدامات کے ذریعے بچا جا سکتا ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق یہ تجزیہ عالمی یومِ کینسر کے موقع پر جاری کیا گیا ہے، جس میں بیماری کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی روک تھام کے وسیع امکانات سے متعلق آگاہی دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
اس تازہ مطالعے کے مطابق دنیا میں ہر 10 میں سے 4 کینسر کے مریض ایسے اسباب کی وجہ سے بیماری کا شکار ہوتے ہیں جن پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2022 کے دوران سامنے آنے والے کینسر کے نئے کیسز میں سے 37 فیصد یعنی 70 لاکھ سے زائد افراد ایسے عوامل کی وجہ سے کینسر کی زد میں آئے، جن پر احتیاط کے ساتھ قابو پایا جا سکتا تھا۔
عالمی تجزیے میں کینسر کا سبب بننے والے 30 مختلف عوامل کا جائزہ لیا گیا ہے، جن میں تمباکو نوشی، شراب نوشی، جسمانی وزن کا غیر متوازن ہونا، جسمانی سرگرمیوں کی کمی اور فضائی آلودگی نمایاں ہیں۔ اس کے علاوہ کینسر کا باعث بننے والے 9 اقسام کے انفیکشنز کو بھی پہلی بار اس تحقیق میں شامل کیا گیا ہے، جس سے بیماری کے اسباب کی وجوہات مزید واضح ہوئی ہیں۔
اعداد و شمار سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ قابلِ پرہیز کینسر کے کیسز مردوں میں خواتین کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ ہوئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق مردوں میں 45 فیصد کینسر کے کیسز ایسے عوامل سے جڑے ہیں جن سے بچا جا سکتا ہے، جن میں تمباکو نوشی سب سے بڑا سبب ہے اور اس کا تناسب 23 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب خواتین میں یہ شرح 30 فیصد رہی، جہاں انفیکشنز 11 فیصد کے ساتھ سرفہرست وجہ کے طور پر سامنے آئے، جبکہ تمباکو نوشی 6 فیصد کیسز کا سبب بنی۔
عالمی ادارۂ صحت میں کینسر کنٹرول ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر آندرے الباوی نے کہا ہے کہ یہ تجزیہ اپنی نوعیت کا پہلا عالمی مطالعہ ہے، جس میں کینسر کے خطرات کو براہِ راست قابلِ پرہیز عوامل سے جوڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان رجحانات سے آگاہی حکومتوں اور عوام دونوں کے لیے حفاظتی حکمتِ عملیوں کی تشکیل میں مدد دے سکتی ہے تاکہ کینسر کو جنم لینے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔