سعودی عرب نے 2025 کے دوران بیرونِ ملک سے ایک کروڑ 95 لاکھ حجاج و معتمرین کا استقبال کیا ہے جبکہ فراہم کی جانے والی خدمات پر اطمینان کی شرح 90 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔
یہ ریکارڈ ساز اشاریے وژن 2030 کے اہداف کے تحت زائرین کی خدمت کے نظام میں تیز رفتار ترقی کی عکاسی کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ بات مرکزِ قومی برائے پیمائشِ کارکردگیِ سرکاری ادارہ جات کی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔
حجاج و معتمرین کی خدمت کا پروگرام جو وژن 2030 کے حصول کے پروگراموں میں سے ایک ہے نے واضح کیا ہے کہ یہ نمایاں کامیابیاں حج اور عمرہ دونوں موسموں میں حاصل ہوئیں جہاں حجاج میں اطمینان کی شرح 91 فیصد جبکہ معتمرین میں 94 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
یہ نتائج اعلیٰ معیار کی منصوبہ بندی، مؤثر آپریشن اور 60 سے زائد اداروں کی ہم آہنگ کوششوں کا واضح ثبوت ہیں، جنہوں نے زائرین کے سفر کے مختلف مراحل میں جامع خدمات فراہم کیں۔
اس سیزن میں 184 ہزار سے زائد رضاکار مرد و خواتین نے سماجی سطح پر بھرپور شرکت کی، جنہوں نے رہنمائی، تنظیم اور انسانی خدمات میں اپنا کردار ادا کیا۔
یہ منظر خدمتِ خلق، قومی شراکت اور سماجی اقدار کے فروغ کی روشن مثال ہے۔
کوششیں مذہبی اور ثقافتی تجربے کی افزودگی تک بھی پھیلیں، جہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں سیرتِ نبویؐ سے وابستہ 18 تاریخی مقامات کو ترقی دی گئی، جس سے ایمانی اثر گہرا ہوا اور حاجی و معتمر کے سفر میں علمی و ثقافتی پہلو کا اضافہ ہوا۔
پروگرام نے اس امر کی تصدیق کی کہ یہ کامیابیاں سرکاری اداروں، نجی شعبے اور غیر منافع بخش شعبے کے باہمی اشتراک کا ثمر ہیں، جو واضح اہداف، کارکردگی و اثر کی پیمائش اور خدمات کے معیار میں مسلسل بہتری پر مبنی ایک مؤسسی نظام کے تحت انجام پائیں۔