اہم خبریں
6 May, 2026
--:--:--

رمضان کے دوران حرمین کا جامع آپریشنل منصوبہ جاری

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
منصوبے میں ایک سو سے زائد اقدامات شامل ہیں ( فوٹو: سبق)

حرمین شریفین انتظامیہ نے رمضان المبارک 1447ھ کے لیے آپریشنل منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھرپور رمضانی سیزن کی تیاری کے تحت مرتب کیا گیا ہے اور حرمین شریفین کے پیغام کو عملی شکل دیتا ہے جس کا مقصد زائرین کے تجربے کو بہتر بنانا اور اعتدال و وسطیت کے منہج کے مطابق ہدایت کی اشاعت ہے۔

حرمین انتظامیہ کے تحت دینی امور کے سربراہ شیخ ڈاکٹر عبد الرحمن بن عبد العزیز السدیس نے وضاحت کی ہے کہ یہ منصوبہ جامع اور منہجی انداز میں تیار کیا گیا ہے جو ماہِ مبارک کی ضروریات کو پیشِ نظر رکھتا ہے، وقت اور مقام کی عظمت کو ملحوظ رکھتا ہے، مختلف ثقافتوں اور زبانوں کے تنوع کا خیال کرتا ہے اور زائرین کی دینی، رہنمائی اور علمی ضروریات کو ایک مربوط ادارہ جاتی نظام کے تحت پورا کرتا ہے۔

مزید پڑھیں

سبق ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ یہ آپریشنل منصوبہ 7 اسٹریٹجک اہداف پر مبنی ہے، جن میں نمایاں طور پر زائرین کے تجربے کو بہتر اور بھرپور بنانا، قرآنِ کریم اور سنتِ نبویؐ کی تعلیم و اشاعت، حرمین شریفین کی خدمت میں سعودی عرب کے دینی مقام اور قیادت کو مستحکم کرنا، ترجمہ اور لسانی خدمات میں قیادت، انسانی صلاحیتوں کی ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل

 

 تبدیلی کے ذریعے ہدایت کی اشاعت اور دنیا بھر کے مسلمانوں سے رابطے کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے پر عمل درآمد 7 اسٹریٹجک پروگراموں کے ذریعے کیا جائے گا، اور 10 آپریشنل راستوں کے تحت کام ہوگا، جن میں علمی، دعوتی، میدانی اور ابلاغی راستے، ترجمہ و زبانوں کا راستہ، امورِ نسواں کے پیغام کا راستہ، ڈیجیٹل، تکنیکی اور مصنوعی ذہانت کا راستہ، نیز اثر انگیز، رضا کارانہ، مشترکہ خدمات اور گورننس کے راستے شامل ہیں۔

5454454
منصوبے کا مقصد زائرین کے تجربے کو بہتر بنانا (فوٹو: سبق)

خیال رہے کہ منصوبے میں ایک سو معیاری آپریشنل اقدامات شامل ہیں، اس کے علاوہ متعدد نئے منصوبے اور اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں نمایاں طور پر ’ہدایہ تھون‘، ’مرکزِ ہدایت‘،’’معرضِ اجلال‘، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور اسمارٹ ایپلی کیشنز کا اجرا، 40 سے زائد زبانوں میں ترجمہ خدمات کی توسیع اور ماہِ مبارک کے دوران میدانی و اثر انگیز آگاہی پروگرام شامل ہیں۔

انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق ہے کی کہ اس منصوبے پر عمل درآمد مربوط انسانی نظام کے ذریعے کیا جائے گا، جس میں 850 سے زائد افرادی قوت شامل ہوگی، جن میں ائمہ، خطباء، اساتذہ اور مؤذنین شریک ہوں گے اور یہ سب کارکردگی کے اشاریوں اور اثرات کی پیمائش سے معاون ہوگا تاکہ نفاذ کے معیار اور ایمانی اثر کو زیادہ سے زیادہ بنایا جا سکے۔