کافی پینا صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے تاہم ایک معمولی سی غلطی آپ کو اس کے فوائد سے محروم کر سکتی ہے۔
دن کے آغاز میں کافی پینے کو عموماً توانائی کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے جبکہ طبی تحقیق کے مطابق اعتدال میں کافی کا استعمال مجموعی طور پر صحت کی بہتری اور عمر میں اضافے کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق ان فوائد کے برعکس ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ کافی پینے کے وقت میں کی جانے والی ایک عام غلطی اس کے فائدے کم کر سکتی ہے اور اسے نیند، میٹابولزم اور وزن کے مسائل کی وجہ بھی بنا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف کافی نہیں بلکہ اس کا غلط وقت پر استعمال ہے، جو جسم کی قدرتی گھڑی کو متاثر کر سکتا ہے۔
ٹائمز ناؤ (Times Now) ویب سائٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق مختلف مشاہداتی مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ باقاعدگی سے کافی پینے والے افراد میں دل کی بیماریوں، ٹائپ ٹو ذیابیطس اور جگر کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
اسی طرح ان افراد میں قبل از وقت موت کے امکانات میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق کافی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور پولی فینولز جسم میں سوزش اور آکسیڈیٹو اسٹریس کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
تحقیق سے پتا چلا ہے کہ روزانہ 2 سے 4 کپ کافی پینے سے سب سے زیادہ صحت بخش فوائد حاصل ہوتے ہیں کیونکہ یہ اجزا خون کی نالیوں کی صحت اور انسولین کی حساسیت کو بہتر بناتے ہیں۔
کیا دیر سے کافی پینا نقصان دہ ہے؟
کافی کے اثرات جسم کی حیاتیاتی گھڑی (بایولوجیکل کلاک) سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
یورپی جرنل آف کارڈیالوجی میں شائع ایک تحقیق کے مطابق صبح کے وقت کافی پینا دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے لیکن دوپہر کے بعد یا شام میں کافی پینے سے نیند کے قدرتی نظام میں خلل پڑتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ دیر سے کافی پینے سے جسم میں کورٹی سول ہارمون کی سطح تقریباً 30 فیصد تک بڑھ سکتی ہے، جس کا اثر 7 گھنٹوں تک رہ سکتا ہے، جس کے نتیجے کے طور پر نیند میں خلل، مٹاپے کا خطرہ اور جسم کے میٹابولزم میں خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔
کافی سے کِس طرح فائدہ اٹھایا جائے؟
کافی کو اگر درست وقت اور درست طریقے سے اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے تو اس کے فوائد برقرار رکھے جا سکتے ہیں۔
ماہرین صحت اس حوالے سے سفارش کرتے ہیں کہ:
سونے سے کم از کم 8 گھنٹے پہلے کیفین والے مشروبات کا استعمال بند کر دیا جائے۔
کافی میں چینی اور مصنوعی فلیورز کم سے کم شامل کیے جائیں۔
پانی کا مناسب استعمال کیا جائے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔
روزانہ 4 کپ سے زیادہ کافی نہ پی جائے۔
طبی ماہرین کے مطابق اعتدال اور درست وقت کا خیال رکھ کر کافی کو صحت مند طرزِ زندگی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔