سعودی عرب نے حج کے دوران دنیا کے سب سے بڑے انسانی اجتماع کو منظم کرنے کے لیے روایتی طریقوں کو خیرباد کہہ کر ڈیجیٹل نظام اپنا لیا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اب مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا اور انٹرنیٹ آف تھنگز کے ذریعے زائرین کی نقل و حرکت کی نگرانی اور ہجوم کو کنٹرول کرنا ممکن ہو گیا ہے۔
روایتی طریقے سے ڈیجیٹل نظام تک
پہلے حج انتظام انسانی مشاہدے اور محدود حفاظتی پالیسی پر منحصر تھا، جہاں سیکیورٹی اہلکار خود رکاوٹیں لگا کر ہجوم کو سنبھالتے تھے۔
اب یہ پورا عمل جامع اور وسیع وژن کے تحت لچکدار اور قابل عمل نیٹ ورک میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں ہر قدم کی نگرانی ڈیجیٹل سسٹم سے ہوتی ہے۔
اسمارٹ نقشے اور انفارمیشن سسٹم
حج کے انتظام کی بنیاد جدید ترین جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم (GIS) پر رکھی گئی ہے۔
اس نظام میں مقدس مقامات کے تھری ڈی نقشے شامل ہیں۔ ’ڈیجیٹل ٹوئن‘ ٹیکنالوجی کے ذریعے مسجد الحرام اور مشاعرِ مقدسہ کا ہو بہو ڈیجیٹل ماڈل تیار کیا گیا ہے، جس سے ہجوم کی نقل و حرکت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
مصنوعی ذہانت اور پیشگی انتباہی نظام
حج انتظامیہ اب اس بڑے اجتماع کو ازدحام بننے کے بعد نہیں، بلکہ اس سے پہلے ہی کنٹرول کرتی ہے۔
ڈیپ لرننگ اور نیورل نیٹ ورک الگورتھمز کئی برس کے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اگر سسٹم کسی راستے پر رش بڑھنے کا اندیشہ ظاہر کرے تو فوری طور پر متبادل راستوں کی ہدایات جاری کر دی جاتی ہیں۔
کمپیوٹر ویژن اور ذہین ویڈیو اینالیٹکس
مقدس مقامات پر نصب ہزاروں کیمرے جدید ٹیکنالوجی کے حامل پلیٹ فارمز سے جڑے ہوئے ہیں۔
یہ کیمرے محض ریکارڈنگ نہیں کرتے بلکہ ہجوم کو خود کار طریقے سے گنتے، غلط سمت میں جانے والوں کی نشاندہی کرتے اور کسی شخص کے گرنے یا رُک جانے جیسی غیر معمولی حرکات پر فوری الرٹ جاری کر دیتے ہیں۔
ڈیٹا کا انضمام اور فوری فیصلہ سازی
حج کے دوران پورے نظام کا کنٹرول روم اب ڈیٹا کو یکجا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس نظام میں زائرین کے اسمارٹ کارڈز، ٹرین اور بسوں کی جی پی ایس لوکیشن اور فیلڈ رپورٹس شامل ہیں۔
جب یہ تمام معلومات ایک مرکز میں اکٹھی ہوتی ہیں، تو حکام فوری اور درست فیصلے کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں جس سے انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنتا ہے۔
حج کا مستقبل اور عالمی ماڈل
سعودی ڈیٹا اینڈ اے آئی اتھارٹی (سدایا) کے مطابق یہ جدید ٹیکنالوجی ہجوم کو ایک منظم انداز میں کنٹرول کرتی ہے۔
حج کا یہ کامیاب ڈیجیٹل ماڈل اب دنیا بھر کے لیے ایک بہترین مثال بن چکا ہے، جو بڑے اجتماعات اور عارضی اسمارٹ شہروں کے انتظام میں ایک نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔
Make sure to review the details of your rights and responsibilities, and use the approved official communication channels whenever needed.#Hajj1447AH pic.twitter.com/RSaqlKwiZr
— Ministry of Hajj and Umrah (@MoHU_En) May 18, 2026