حاصل کرنے کے ایرانی منصوبے کے تحت میٹا، مائیکروسافٹ اور ایمیزون جیسی کمپنیوں کو ایرانی قوانین کی پابندی کرنا ہوگی، جبکہ سمندری کیبل کمپنیوں پر گزرنے کے لیے لائسنس فیس عائد کی جائے گی۔
اس کے علاوہ مرمت اور دیکھ بھال کے حقوق صرف ایرانی کمپنیوں کو دینے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔
یرانی فوج کے ترجمان ابراہیم ذو الفقاری نے ایکس پر کہا تھا کہ ہم انٹرنیٹ کیبلز پر فیس عائد کریں گے۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ کیبلز ایرانی سمندری حدود سے گزرتی بھی ہیں یا نہیں۔
اسی طرح یہ بھی غیر واضح ہے کہ ایران ان بڑی عالمی کمپنیوں کو اپنی شرائط ماننے پر کیسے مجبور کرے گا، کیونکہ سخت امریکی پابندیوں کے باعث ان کمپنیوں کے لیے ایران کو ادائیگیاں کرنا تقریباً ناممکن ہے۔
اسی لیے بعض کمپنیوں کی جانب سے ایرانی بیانات کو عملی پالیسی کے بجائے طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جیسا کہ سی این این نے رپورٹ کیا۔
العربیہ کے مطابق دینا اسفند یاری جو بلومبرگ اکنامکس میں مشرقِ وسطیٰ شعبے کی سربراہ ہیں، کے مطابق ایران کی یہ دھمکیاں آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ ظاہر کرنے اور نظام کے تحفظ کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جو اس جنگ میں تہران کا بنیادی ہدف ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقصد عالمی معیشت پر اتنی بھاری قیمت مسلط کرنا ہے کہ دوبارہ کوئی ایران پر حملہ کرنے کی جرات نہ کرے۔
دوسری جانب محقق مصطفی احمد نے وضاحت کی کہ عالمی آپریٹرز کافی عرصے سے ایرانی پانیوں سے گریز کرتے آئے ہیں اور زیادہ تر کیبلز کو آبنائے ہرمز کے عمانی حصے کے قریب محدود دائرے میں مرکوز کر چکے ہیں۔
ایک کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ 2025 تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والی کیبلز عالمی انٹرنیٹ کی مجموعی بین الاقوامی صلاحیت کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ بناتی ہیں۔
یاد رہے کہ سمندری کیبلز کی جنگ کوئی نئی بات نہیں۔
زیرِ سمندر کیبلز کو نقصان پہنچانے کی تاریخ تقریباً دو صدیوں پرانی ہے۔
پہلی جنگِ عظیم کے آغاز پر برطانیہ نے جرمنی کی کیبلز کاٹ کر اسے اپنی افواج سے الگ تھلگ کر دیا تھا۔