اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

ڈرون وار: کیوبا، ایران اور روس کے گٹھ جوڑ پر امریکا شدید خوفزدہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
کیوبا فوجی ڈرون
امریکی انٹیلی جنس نے کیوبا کے خفیہ ڈرون پروگرام کا انکشاف کیا ہے

امریکی خفیہ اداروں کے مطابق کیوبا نے روس اور ایران کی مدد سے جدید فوجی ڈرونز حاصل کئے ہیں اور ممکنہ جنگی منصوبوں پر غور شروع کر دیا ہے۔
واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ یہ ڈرونز امریکی مفادات، گوانتانامو بے اور فلوریڈا کے قریب علاقوں کے لیے مستقبل میں خطرہ بن سکتے ہیں۔

واشنگٹن اور ہوانا کے درمیان تعلقات میں شدید کشیدگی کے دوران خفیہ انٹیلی جنس معلومات سامنے آئی ہیں جن کے مطابق کیوبا نے 300 سے زائد فوجی ڈرون حاصل کر لیے ہیں اور حالیہ دنوں میں ان کے استعمال سے امریکی بحری اڈے گوانتانامو بے، امریکی بحریہ کے جہازوں اور ممکنہ طور پر ریاست فلوریڈا کے علاقے ’کی ویسٹ‘ پر حملوں کی منصوبہ بندی پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ 

یہ علاقہ ہوانا سے تقریباً 90 میل شمال میں واقع ہے۔

ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بتایا کہ یہ معلومات، جنہیں ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کیوبا کو کس حد تک خطرہ تصور کرتی ہے، خاص طور پر ڈرون جنگی صلاحیتوں میں پیش رفت اور ہوانا میں ایرانی فوجی مشیروں کی موجودگی کے باعث۔ 

یہ انکشاف امریکی ویب سائٹ Axios نے اتوار کو اپنی رپورٹ میں کیا۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم اتنے قریب فاصلے پر ایسی ٹیکنالوجی کی موجودگی کو دیکھتے ہیں، اور اس کے ساتھ دہشت گرد گروہوں، منشیات کارٹیلز، ایرانیوں اور پھر روسیوں جیسے عناصر کو شامل کرتے ہیں، تو یہ انتہائی تشویشناک صورتحال بنتی ہے۔

 انہوں نے زور دیا کہ یہ بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔

عہدیدار کے مطابق گزشتہ ماہ کیوبا کے حکام نے روس سے مزید ڈرونز

 اور فوجی سازوسامان حاصل کرنے کی کوشش بھی کی۔

متنوع صلاحیتیں

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کیوبا 2023 سے روس اور ایران سے حملہ آور ڈرونز حاصل کرنے پر کام کر رہا ہے، جنہیں ’متنوع صلاحیتوں‘ کا حامل قرار دیا گیا اور انہیں جزیرے بھر میں مختلف اسٹریٹجک مقامات پر ذخیرہ بھی کیا گیا ہے۔

ChatGPT Image 17 مايو 2026، 07 36 38 م
کیوبا کے پاس 300 سے زائد فوجی ڈرونز ہونے کا دعویٰ

روس اور چین دونوں کیوبا میں جدید جاسوسی تنصیبات چلا رہے ہیں، جن کا مقصد ’سگنلز انٹیلی جنس‘ SIGINT جمع کرنا ہے۔

ادھر امریکی اندازوں کے مطابق تقریباً 5000 کیوبن فوجی روس کے ساتھ یوکرین جنگ میں شریک ہو چکے ہیں اور ان میں سے بعض نے ڈرون جنگ سے متعلق اپنے تجربات کیوبا کی فوجی قیادت تک منتقل کیے ہیں۔ 

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ روس، یوکرین بھیجے جانے والے ہر کیوبن فوجی کے بدلے کیوبا کی حکومت کو تقریباً 25 ہزار ڈالر ادا کرتا رہا ہے۔

گوانتانامو بے
اور امریکی بحری
جہاز ممکنہ
اہداف قرار

کیا فوری خطرہ موجود ہے؟

اس کے باوجود امریکی حکام یہ نہیں سمجھتے کہ کیوبا اس وقت فوری خطرہ بن چکا ہے یا وہ فی الحال امریکی مفادات پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاہم امریکی انٹیلی جنس کے مطابق کیوبا کے فوجی حکام امریکہ کے ساتھ تعلقات میں مسلسل بگاڑ کی صورت میں ممکنہ ڈرون جنگ کے منصوبوں پر بات چیت کر رہے تھے۔
کیوبا کے پاس آبنائے فلوریڈا کو اسی انداز میں بند کرنے کی صلاحیت موجود نہیں، جس طرح ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو شدید متاثر کیا تھا۔
امریکی حکام یہ بھی نہیں سمجھتے کہ کیوبا 1962 کے میزائل بحران جیسا بڑا فوجی خطرہ بن چکا ہے۔
اعلیٰ امریکی عہدیدار نے کہا کہ کوئی بھی کیوبا سے آنے والے جنگی طیاروں سے خوفزدہ نہیں۔

ChatGPT Image 17 مايو 2026، 07 33 12 م
ایران اور روس پر کیوبا کو فوجی مدد فراہم کرنے کا الزام

یہ بھی واضح نہیں کہ ان کے پاس کوئی ایسا طیارہ موجود ہے جو پرواز کر سکے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے باوجود یہ بات اہم ہے کہ وہ صرف 90 میل کے فاصلے پر ہیں۔
یہ ایسی حقیقت نہیں جس پر ہم مطمئن ہوں۔

سی آئی اے کی براہِ راست وارننگ

دوسری جانب امریکی سی آئی اے کے ایک عہدیدار نے Axios کو بتایا کہ سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے گزشتہ جمعرات کو کیوبا کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مقامی حکام کو کسی بھی جارحانہ اقدام سے باز رہنے کی براہِ راست تنبیہ کی۔

انہوں نے کیوبا پر زور دیا کہ وہ امریکی پابندیوں کے خاتمے کے لیے اپنے ’آمرانہ نظام‘ کو ترک کرے۔

عہدیدار کے مطابق راتکلف نے واضح کیا کہ اب کیوبا ہمارے مخالفین کے لیے مغربی نصف کرے میں اپنے جارحانہ ایجنڈے کو پھیلانے کا پلیٹ فارم نہیں بن سکتا، اور مزید کہا کہ مغربی نصف کرے کو ہمارے دشمنوں کے کھیل کا میدان نہیں بننے دیا جا سکتا۔