امریکی خفیہ اداروں کے مطابق کیوبا نے روس اور ایران کی مدد سے جدید فوجی ڈرونز حاصل کئے ہیں اور ممکنہ جنگی منصوبوں پر غور شروع کر دیا ہے۔
واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ یہ ڈرونز امریکی مفادات، گوانتانامو بے اور فلوریڈا کے قریب علاقوں کے لیے مستقبل میں خطرہ بن سکتے ہیں۔
اس کے باوجود امریکی حکام یہ نہیں سمجھتے کہ کیوبا اس وقت فوری خطرہ بن چکا ہے یا وہ فی الحال امریکی مفادات پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاہم امریکی انٹیلی جنس کے مطابق کیوبا کے فوجی حکام امریکہ کے ساتھ تعلقات میں مسلسل بگاڑ کی صورت میں ممکنہ ڈرون جنگ کے منصوبوں پر بات چیت کر رہے تھے۔
کیوبا کے پاس آبنائے فلوریڈا کو اسی انداز میں بند کرنے کی صلاحیت موجود نہیں، جس طرح ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو شدید متاثر کیا تھا۔
امریکی حکام یہ بھی نہیں سمجھتے کہ کیوبا 1962 کے میزائل بحران جیسا بڑا فوجی خطرہ بن چکا ہے۔
اعلیٰ امریکی عہدیدار نے کہا کہ کوئی بھی کیوبا سے آنے والے جنگی طیاروں سے خوفزدہ نہیں۔