اہم خبریں
12 May, 2026
--:--:--

خصوصی تجزیاتی رپورٹ: امریکہ جنگ ہار جائے گا!

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران جنگ

تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل، ایران کے خلاف جنگ میں اپنے اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے جبکہ ایران نے عسکری، سیاسی اور علاقائی سطح پر اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر لی ہے۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ غالب امکان کے مطابق امریکی پسپائی پر ختم ہوگی۔ 

امریکا اس جنگ کو مزید جاری نہیں رکھ سکتا کیونکہ اس کے نتائج تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

کیونکہ کسی بھی نئی کشیدگی سے خطے میں تیل، گیس اور پانی صاف کرنے والے انفراسٹرکچر کی تباہی کا شدید خطرہ پیدا ہوگا، جو ایک طویل عالمی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ 

ایران ایسی بھاری قیمت عائد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جسے امریکا برداشت نہیں کر سکتا، اور دنیا کو بھی اس کی قیمت نہیں چکانی چاہئے۔

مزید پڑھیں

امریکی اور اسرائیلی جنگی منصوبہ دراصل ’سر قلم کرنے والی ضرب‘ پر مبنی تھا، جسے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیع نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فروخت کیا۔

اس منصوبے کی بنیاد اس تصور پر تھی کہ امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ شدید بمباری ایرانی قیادت، جوہری پروگرام اور پاسدارانِ انقلاب کی قیادت کو اتنا کمزور کر دے گی کہ نظام خود بخود گر جائے گا، جس کے بعد 

امریکا اور اسرائیل تہران میں اپنی مرضی کی نرم حکومت قائم کر سکیں گے۔

ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ اس بات پر قائل تھے کہ ایران بھی وینزویلا کی طرح راستہ اختیار کرے گا۔ 

جنوری 2026 میں وینزویلا میں امریکی کارروائی کے نتیجے میں صدر نکولس مادورو کو ہٹا دیا گیا تھا اور بظاہر یہ کارروائی سی آئی اے اور وینزویلا کی ریاستی قوتوں کے بعض عناصر کے درمیان ہم آہنگی سے انجام دی گئی تھی۔

ایران کے منجمد اثاثے
امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی

اس کارروائی کے نتیجے میں امریکا کو ایک زیادہ نرم حکومت ملی جبکہ وینزویلا کا بیشتر ریاستی ڈھانچہ برقرار رہا۔ 

بظاہر ٹرمپ نے سادگی سے یہ سمجھ لیا تھا کہ ایران میں بھی یہی نتیجہ نکلے گا۔

تاہم ایران میں یہ منصوبہ ناکام رہا اور تہران میں کوئی نرم حکومت وجود میں نہ آسکی۔ 

ایران تاریخی، تکنیکی، ثقافتی، جغرافیائی، عسکری، آبادیاتی اور جغرافیائی سیاسی اعتبار سے وینزویلا نہیں ہے۔ 

کاراکاس میں جو کچھ ہوا، اس کا تہران سے کوئی تعلق نہیں۔

پاسدارانِ انقلاب
کمزور ہونے کے
بجائے مزید
مضبوط ہو گئے

ایرانی حکومت کا ڈھانچہ ٹوٹنے کے بجائے مزید مضبوط ہو گیا۔
پاسدارانِ انقلاب، جسے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اندرونی اتحاد کے ساتھ مزید طاقتور ہو کر ابھرا اور قومی سلامتی کے نظام میں اس کا کردار مزید بڑھ گیا، یہاں تک کہ اس نے اعلیٰ قیادت کی باگ ڈور سنبھال لی۔
مذہبی قیادت نے بھی اس کے پیچھے صفیں مضبوط کر لیں جبکہ عوام بیرونی جارحیت کے خلاف متحد ہو گئے۔
دو ماہ گزرنے کے باوجود نہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو اپنی مرضی کی ایرانی حکومت ملی، نہ ایران نے ہتھیار ڈالے اور نہ ہی کوئی ایسا عسکری راستہ سامنے آیا جو فتح کی طرف جاتا ہو۔

واحد راستہ، جس پر بظاہر امریکا اب چل رہا ہے، پسپائی کا ہے، جبکہ ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے اور امریکا و ایران کے درمیان دیگر بنیادی مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔

امریکا کی تباہ کن غلطیوں اور ایران کی کامیابیوں کی کئی وجوہ ہیں۔

پہلی وجہ یہ کہ امریکی قیادت نے ایران کی اصل حقیقت کو انتہائی غلط انداز میں سمجھا۔

 ایران 5 ہزار سالہ تاریخ رکھنے والی ایک عظیم تہذیب ہے، جس کے پاس گہری ثقافت، قومی مزاحمت اور مضبوط قومی فخر موجود ہے۔ 

ایرانی حکومت امریکی دھونس اور بمباری کے سامنے جھکنے والی نہیں تھی، خاص طور پر اس لیے کہ ایرانی عوام کو یاد ہے کہ امریکا نے 1953 میں ایک منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر ایران میں 27 سالہ پولیس ریاست قائم کی تھی۔

قطر ڈرون حملہ
قطر کے علاقائی پانی میں تجارتی جہاز کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا

دوسری وجہ یہ کہ امریکی قیادت نے ایران کی تکنیکی ترقی کو شدید کم سمجھا۔ 

ایران عالمی معیار کی انجینئرنگ اور ریاضیاتی صلاحیتوں کا حامل ہے۔

ایران نے اپنی مقامی دفاعی صنعت قائم کی، جس میں جدید بیلسٹک میزائل، ڈرون انڈسٹری اور مقامی خلائی لانچ صلاحیت شامل ہے۔ 

40 سالہ پابندیوں کے باوجود ایران کی تکنیکی ترقی ایک حیران کن قومی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔

تیسری وجہ یہ کہ جنگی ٹیکنالوجی کا توازن ایران کے حق میں تبدیل ہو چکا ہے۔ 

ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی لاگت امریکی دفاعی میزائلوں کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔

 ایرانی ڈرون کی قیمت صرف 20 ہزار ڈالر ہے جبکہ امریکی فضائی دفاعی میزائل کی قیمت 40 لاکھ ڈالر تک پہنچتی ہے۔

اسی طرح ایران کے اینٹی شپ میزائل، جن کی قیمت چند لاکھ ڈالر ہے، دو سے 3 ارب ڈالر مالیت رکھنے والے امریکی جنگی بحری جہازوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔

ایران نے
آبنائے ہرمز پر
عملی کنٹرول
حاصل کر لیا ہے

خلیج عرب میں ایران کے ’منع رسائی اور علاقائی پابندی‘ کے نیٹ ورک، تہہ دار فضائی دفاع، ڈرون اور میزائلوں کی بھرمار کی صلاحیت اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت روکنے کی طاقت نے ایران پر امریکی دباؤ کی عسکری قیمت کو ناقابل برداشت حد تک بڑھا دیا ہے، خاص طور پر اس خطرے کے ساتھ کہ ایران خطے کے پڑوسی ممالک کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔چوتھی وجہ یہ ہے کہ امریکی سیاسی فیصلہ سازی نامعقول ہو چکی ہے۔
ایران جنگ کا فیصلہ مارالاگو میں موجود چند صدارتی وفاداروں کے محدود حلقے نے کیا، جبکہ قومی سلامتی کونسل اور بین الادارہ جاتی مشاورت کا نظام پہلے ہی کمزور کر دیا گیا تھا۔

ٹرمپ دور میں قومی انسداد دہشت گردی مرکز کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے 17 مارچ کو استعفیٰ دیتے ہوئے ایک کھلا خط لکھا، جس میں انہوں نے ’ایکو چیمبر‘ یا محدود سوچ کے ماحول کا ذکر کیا جو صدر کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ 

ان کے مطابق یہ جنگ ایسے نظامِ فیصلہ سازی کا نتیجہ تھی جس میں حقیقی مشاورت کو معطل کر دیا گیا تھا۔

یہ نہ تو ناگزیر جنگ تھی اور نہ ہی اختیاری جنگ۔ 

یہ ایک جذباتی جنگ تھی۔ 

اس کی بنیادی سوچ عالمی بالادستی تھی۔ 

امریکا ایسی عالمی برتری برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا تھا جو اب اس کے پاس نہیں رہی، جبکہ اسرائیل ایسی علاقائی برتری حاصل کرنا چاہتا ہے جو اسے کبھی نہیں ملے گی۔

ان تمام حقائق کے پیش نظر غالب امکان یہی ہے کہ جنگ تقریباً اسی صورتحال پر ختم ہوگی جو جنگ سے پہلے موجود تھی، البتہ 3 نئی حقیقتیں سامنے آئیں گی۔

46546546
امریکی فیصلہ سازی کو ’نامعقول‘ اور محدود حلقے کے زیر اثر قرار دیا گیا
  • پہلی حقیقت یہ کہ ایران آبنائے ہرمز پر عملی کنٹرول حاصل کر لے گا۔
  • دوسری حقیقت یہ کہ ایران کی دفاعی طاقت اور قوت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
  • تیسری حقیقت یہ کہ خلیج میں امریکا کی طویل المدتی فوجی موجودگی واضح طور پر کم ہو جائے گی۔

وہ تمام مسائل جنہیں امریکا نے ایران پر حملے کی وجہ قرار دیا تھا، جیسے ایران کا جوہری پروگرام، علاقائی اتحادی گروہ اور میزائل پروگرام، غالباً جنگ کے بعد بھی اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔

امریکی پسپائی کے باوجود ایران اپنے پڑوسی ممالک کے خلاف اپنی برتری استعمال نہیں کرے گا اور اس کی 3 بڑی وجوہ ہیں۔

  • پہلی یہ کہ ایران کے طویل المدتی اسٹریٹجک مفادات اپنے خلیجی پڑوسیوں کے ساتھ تعاون میں ہیں، نہ کہ مستقل جنگ میں۔
  • دوسری یہ کہ ایران اس جنگ کو دوبارہ بھڑکانے میں دلچسپی نہیں رکھے گا جسے وہ کامیابی سے ختم کر چکا ہوگا۔
  • تیسری یہ کہ اگر ایران کو کسی حد تک روکنے کی ضرورت پیش بھی آئی تو روس اور چین جیسے اس کے بڑے اتحادی اسے محدود رکھیں گے، کیونکہ دونوں ایک مستحکم اور خوشحال خطہ چاہتے ہیں۔ ایرانی قیادت اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتی ہے اور اسی لیے جنگ ختم کرنے کی طرف جائے گی۔
امریکا ایران کشیدگی
ایران کی عسکری اور تکنیکی صلاحیتوں کو امریکا کی توقعات سے کہیں زیادہ مضبوط قرار دیا گیا

اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ آنے والی پسپائی کو ایک عظیم عسکری اور اسٹریٹجک فتح کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن یہ دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہوں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایران امریکا کے اندازوں سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ نکلا، جنگ کا فیصلہ غیر غور و فکر پر مبنی نہیں تھا، اور جدید جنگی ٹیکنالوجی امریکا کے خلاف جا چکی ہے۔

امریکی سلطنت ایران کے خلاف اس جنگ سے کم مالی، عسکری اور سیاسی قیمت پر کامیاب ہو کر نہیں نکل سکتی۔ 

البتہ امریکا اب بھی ایک چیز واپس حاصل کر سکتا ہے، اور وہ ہے عقل و منطق۔ 

اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا حکومتیں بدلنے کی پالیسی ختم کرے اور بین الاقوامی قانون اور سفارت کاری کی طرف واپس لوٹے۔

تجزیہ نگار: 
جیفری ساکس
معروف امریکی ماہرِ معاشیات اور کولومبیا یونیورسٹی میں ارتھ انسٹی ٹیوٹ کے سابق ڈائریکٹر۔
سیبیل فارس

مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے لیے اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی حل نیٹ ورک کی سینئر مشیر۔

بشکریہ: الجزیرہ نیٹ ورک