پاسدارانِ انقلاب
کمزور ہونے کے
بجائے مزید
مضبوط ہو گئے
ایرانی حکومت کا ڈھانچہ ٹوٹنے کے بجائے مزید مضبوط ہو گیا۔
پاسدارانِ انقلاب، جسے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اندرونی اتحاد کے ساتھ مزید طاقتور ہو کر ابھرا اور قومی سلامتی کے نظام میں اس کا کردار مزید بڑھ گیا، یہاں تک کہ اس نے اعلیٰ قیادت کی باگ ڈور سنبھال لی۔
مذہبی قیادت نے بھی اس کے پیچھے صفیں مضبوط کر لیں جبکہ عوام بیرونی جارحیت کے خلاف متحد ہو گئے۔
دو ماہ گزرنے کے باوجود نہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو اپنی مرضی کی ایرانی حکومت ملی، نہ ایران نے ہتھیار ڈالے اور نہ ہی کوئی ایسا عسکری راستہ سامنے آیا جو فتح کی طرف جاتا ہو۔
واحد راستہ، جس پر بظاہر امریکا اب چل رہا ہے، پسپائی کا ہے، جبکہ ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے اور امریکا و ایران کے درمیان دیگر بنیادی مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔
امریکا کی تباہ کن غلطیوں اور ایران کی کامیابیوں کی کئی وجوہ ہیں۔
پہلی وجہ یہ کہ امریکی قیادت نے ایران کی اصل حقیقت کو انتہائی غلط انداز میں سمجھا۔
ایران 5 ہزار سالہ تاریخ رکھنے والی ایک عظیم تہذیب ہے، جس کے پاس گہری ثقافت، قومی مزاحمت اور مضبوط قومی فخر موجود ہے۔
ایرانی حکومت امریکی دھونس اور بمباری کے سامنے جھکنے والی نہیں تھی، خاص طور پر اس لیے کہ ایرانی عوام کو یاد ہے کہ امریکا نے 1953 میں ایک منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر ایران میں 27 سالہ پولیس ریاست قائم کی تھی۔
دوسری وجہ یہ کہ امریکی قیادت نے ایران کی تکنیکی ترقی کو شدید کم سمجھا۔
ایران عالمی معیار کی انجینئرنگ اور ریاضیاتی صلاحیتوں کا حامل ہے۔
ایران نے اپنی مقامی دفاعی صنعت قائم کی، جس میں جدید بیلسٹک میزائل، ڈرون انڈسٹری اور مقامی خلائی لانچ صلاحیت شامل ہے۔
40 سالہ پابندیوں کے باوجود ایران کی تکنیکی ترقی ایک حیران کن قومی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔
تیسری وجہ یہ کہ جنگی ٹیکنالوجی کا توازن ایران کے حق میں تبدیل ہو چکا ہے۔
ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی لاگت امریکی دفاعی میزائلوں کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔
ایرانی ڈرون کی قیمت صرف 20 ہزار ڈالر ہے جبکہ امریکی فضائی دفاعی میزائل کی قیمت 40 لاکھ ڈالر تک پہنچتی ہے۔
اسی طرح ایران کے اینٹی شپ میزائل، جن کی قیمت چند لاکھ ڈالر ہے، دو سے 3 ارب ڈالر مالیت رکھنے والے امریکی جنگی بحری جہازوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
ایران نے
آبنائے ہرمز پر
عملی کنٹرول
حاصل کر لیا ہے
خلیج عرب میں ایران کے ’منع رسائی اور علاقائی پابندی‘ کے نیٹ ورک، تہہ دار فضائی دفاع، ڈرون اور میزائلوں کی بھرمار کی صلاحیت اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت روکنے کی طاقت نے ایران پر امریکی دباؤ کی عسکری قیمت کو ناقابل برداشت حد تک بڑھا دیا ہے، خاص طور پر اس خطرے کے ساتھ کہ ایران خطے کے پڑوسی ممالک کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔چوتھی وجہ یہ ہے کہ امریکی سیاسی فیصلہ سازی نامعقول ہو چکی ہے۔
ایران جنگ کا فیصلہ مارالاگو میں موجود چند صدارتی وفاداروں کے محدود حلقے نے کیا، جبکہ قومی سلامتی کونسل اور بین الادارہ جاتی مشاورت کا نظام پہلے ہی کمزور کر دیا گیا تھا۔
ٹرمپ دور میں قومی انسداد دہشت گردی مرکز کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے 17 مارچ کو استعفیٰ دیتے ہوئے ایک کھلا خط لکھا، جس میں انہوں نے ’ایکو چیمبر‘ یا محدود سوچ کے ماحول کا ذکر کیا جو صدر کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
ان کے مطابق یہ جنگ ایسے نظامِ فیصلہ سازی کا نتیجہ تھی جس میں حقیقی مشاورت کو معطل کر دیا گیا تھا۔
یہ نہ تو ناگزیر جنگ تھی اور نہ ہی اختیاری جنگ۔
یہ ایک جذباتی جنگ تھی۔
اس کی بنیادی سوچ عالمی بالادستی تھی۔
امریکا ایسی عالمی برتری برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا تھا جو اب اس کے پاس نہیں رہی، جبکہ اسرائیل ایسی علاقائی برتری حاصل کرنا چاہتا ہے جو اسے کبھی نہیں ملے گی۔
ان تمام حقائق کے پیش نظر غالب امکان یہی ہے کہ جنگ تقریباً اسی صورتحال پر ختم ہوگی جو جنگ سے پہلے موجود تھی، البتہ 3 نئی حقیقتیں سامنے آئیں گی۔
- پہلی حقیقت یہ کہ ایران آبنائے ہرمز پر عملی کنٹرول حاصل کر لے گا۔
- دوسری حقیقت یہ کہ ایران کی دفاعی طاقت اور قوت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
- تیسری حقیقت یہ کہ خلیج میں امریکا کی طویل المدتی فوجی موجودگی واضح طور پر کم ہو جائے گی۔
وہ تمام مسائل جنہیں امریکا نے ایران پر حملے کی وجہ قرار دیا تھا، جیسے ایران کا جوہری پروگرام، علاقائی اتحادی گروہ اور میزائل پروگرام، غالباً جنگ کے بعد بھی اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔
امریکی پسپائی کے باوجود ایران اپنے پڑوسی ممالک کے خلاف اپنی برتری استعمال نہیں کرے گا اور اس کی 3 بڑی وجوہ ہیں۔
- پہلی یہ کہ ایران کے طویل المدتی اسٹریٹجک مفادات اپنے خلیجی پڑوسیوں کے ساتھ تعاون میں ہیں، نہ کہ مستقل جنگ میں۔
- دوسری یہ کہ ایران اس جنگ کو دوبارہ بھڑکانے میں دلچسپی نہیں رکھے گا جسے وہ کامیابی سے ختم کر چکا ہوگا۔
- تیسری یہ کہ اگر ایران کو کسی حد تک روکنے کی ضرورت پیش بھی آئی تو روس اور چین جیسے اس کے بڑے اتحادی اسے محدود رکھیں گے، کیونکہ دونوں ایک مستحکم اور خوشحال خطہ چاہتے ہیں۔ ایرانی قیادت اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتی ہے اور اسی لیے جنگ ختم کرنے کی طرف جائے گی۔