اہم خبریں
12 May, 2026
--:--:--

ٹرمپ: ایران معاہدہ چاہتا ہے، جواب کے منتظر ہیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ٹرمپ ایران معاہدہ
صدر ٹرمپ نے ایران سے جلد جواب ملنے کی امید ظاہر کی ہے (فوٹو: العربیہ)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی تازہ امریکی تجاویز پر بہت جلد جواب موصول ہوگا، اور یہ کہ تہران اب بھی بھرپور طریقے سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

یہ بیانات فرانسیسی صحافی مارگو حداد کے مطابق ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سامنے آئے، جس میں ٹرمپ نے ایرانی فائل اور روس یوکرین جنگ سے متعلق پیشرفت پر بات کی۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ ایران اب بھی معاہدے تک پہنچنے کی واضح خواہش ظاہر کر رہا ہے، ایسے وقت میں جب واشنگٹن تہران پر فوجی اور اقتصادی دباؤ جاری رکھے ہوئے ہے۔

ٹرمپ کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا ایران پر بحری محاصرہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ 

یہ فوجی کارروائی تہران پر دباؤ بڑھانے اور اسے اپنے جوہری پروگرام

اور علاقائی طرزِ عمل سے متعلق رعایتیں دینے پر مجبور کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔

 

اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ یہ محاصرہ ’انتہائی کامیاب‘ ہے اور اس نے ’ایرانی معیشت کا گلا گھونٹ دیا ہے‘ جبکہ امریکی حکام نے زور دے کر کہا کہ تہران کے حوالے سے تمام آپشنز اب بھی میز پر موجود ہیں۔

654654 5
امریکا نے ایران پر بحری دباؤ اور اقتصادی محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے (فوٹو: العربیہ)

روس، یوکرین جنگ

روس، یوکرین جنگ کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ جنگ بندی میں توسیع اچھی بات ہوگی۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے روسی صدر پوٹن اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے درمیان جنگ بندی کرانے میں براہِ راست کردار ادا کیا۔

ٹرمپ نے روس
اور یوکرین کے
درمیان عارضی
جنگ بندی میں
اپنے کردار کا
ذکر کیا

انہوں نے کہا کہ میں نے خود پوٹن اور زیلنسکی کے ساتھ یہ معاہدہ کروایا، اشارہ اس عارضی جنگ بندی کی طرف تھا جس کا اعلان ماسکو نے ’یومِ فتح‘ کی تقریبات کے ساتھ کیا تھا۔
جب ان سے ان اطلاعات کے بارے میں پوچھا گیا جن میں کہا گیا تھا کہ روس نے گزشتہ رات جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، تو ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایسی معلومات نہیں دیکھیں اور مزید کہا کہ انہیں شک ہے کہ ایسا ہوا ہوگا۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ماسکو اور کیف گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایک دوسرے پر جنگ بندی توڑنے کے الزامات لگا رہے ہیں جبکہ مشرقی یوکرین کے مختلف محاذوں پر لڑائی اب بھی جاری ہے۔

واضح رہے کہ جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات لگا رہے ہیں۔ 

روس اور یوکرین نے گزشتہ گھنٹوں میں ایک دوسرے پر حملوں اور سیز فائر توڑنے کے دعوے کئے جبکہ مشرقی یوکرین کے کئی محاذوں پر جھڑپیں جاری رہیں۔