اہم خبریں
12 May, 2026
--:--:--

شہزادہ ترکی الفیصل کا کالم: سعودی عرب کے تدبر نے خطے کو بچا لیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
محمد بن سلمان
محمد بن سلمان کی حکمتِ عملی نے خطے کو تباہ کن جنگ سے بچا لیا
Picture of شہزادہ ترکی الفیصل

شہزادہ ترکی الفیصل

سعودی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ

جب سے گزشتہ 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی۔اسرائیلی جنگ شروع ہوئی ہے، ہمارے خطے اور مغربی میڈیا میں بعض شور مچانے والی آوازیں سعودی عرب کے مؤقف پر سوال اٹھا رہی ہیں، حالانکہ مملکت نے اس جنگ کو روکنے کے لیے ابتدا ہی سے بھرپور کوششیں کیں اور بعد ازاں اسے ختم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے خاموش مگر مؤثر اقدامات جاری رکھے، بغیر کسی شور، دکھاوے، نعروں یا جذباتی دعوؤں کے۔ 

مقصد صرف ایک تھا: خطے کو اس خونریز تصادم سے نکالنا۔

یہی سعودی قیادت کی پالیسی رہی ہے، جب سے اس ریاست کی بنیاد بانیِ مملکت شاہ عبدالعزیز نے رکھی۔ 

سعودی قیادت کا
بڑا امتحان
ایران جنگ میں
نہ کود کر
خطے کو تباہی
سے بچا لیا

قیادت نے ہمیشہ اس اصول پر عمل کیا کہ اصل اہمیت عمل کی ہے، نہ کہ صرف باتوں کی۔ جبکہ سوشل میڈیا کا شور مچانے والا طبقہ چیخ و پکار میں مصروف تھا، سعودی عرب تحمل، صبر اور حکمت کے ساتھ کام کرتا رہا۔
جب چاپلوس نعرے لگا رہے تھے، تب مملکت خاموشی سے حالات کا جائزہ لے کر تدبر کے ساتھ فیصلے کر رہی تھی اور اس کے شواہد ہمارے سامنے موجود ہیں۔
جب ایران اور دیگر قوتوں نے سعودی عرب کو تباہی کی آگ میں دھکیلنے کی کوشش کی تو ہماری قیادت نے اپنے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے صبر و تحمل کا راستہ اختیار کیا۔
اگر سعودی عرب چاہتا اور یقیناً اس کی طاقت رکھتا تھا کہ ایران کو ویسا ہی جواب دے اور ایرانی تنصیبات و مفادات کو تباہ کر دے تو اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا تھا کہ خلیج کے ساحلوں سے لے کر مملکت کے اندرونی علاقوں تک سعودی تیل تنصیبات اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس تباہ ہو جاتے۔

اگر اسرائیلی منصوبہ کامیاب ہو جاتا اور سعودی عرب و ایران کے درمیان جنگ بھڑک اٹھتی، تو پورا خطہ تباہی، بربادی اور ہزاروں جانوں کے ضیاع کا شکار ہو جاتا، ایک ایسی جنگ میں جس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں تھا۔ 

اس کے نتیجے میں اسرائیل خطے میں اپنی مرضی مسلط کرنے میں کامیاب ہو جاتا اور ہمارے گرد و نواح میں واحد غالب طاقت بن کر ابھرتا۔

سعودی عرب نے
اسرائیلی منصوبہ
ناکام بنا دیا
خطے کو بڑی
تباہی سے بچا لیا

سعودی عرب نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دانشمندی اور دور اندیشی سے جنگ کی تباہ کاریوں اور اس کے خطرناک اثرات سے خود کو محفوظ رکھا۔
بلکہ آج سعودی عرب، پاکستان کے ساتھ مل کر جنگ کی آگ بجھانے، کشیدگی کم کرنے اور امن کے خواہش مندوں کو امید دینے میں مصروف ہے تاکہ لوگ اپنے پیاروں اور مفادات کے تحفظ کے بارے میں اطمینان حاصل کر سکیں۔
اس کے برعکس جنگ کے حامی اب بھی اپنی ہٹ دھرمی اور شور و غوغا میں مصروف ہیں، شاید انہیں احساس بھی نہیں کہ زمین ان کے قدموں تلے سے سرک چکی ہے۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے ایران کو یہ موقع بھی نہیں دیا کہ وہ خلیجی ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کر سکے۔

انہوں نے تمام خلیجی قیادتوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور مملکت کی سڑکوں، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو تجارت اور مالی نقل و حرکت کے لیے ان کے اختیار میں دے دیا۔ 

بلکہ واضح پیغام دیا کہ ان کا امن ہی سعودی عرب کا امن ہے اور مملکت ان کے استحکام اور سلامتی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔

سعودی عرب ہمیشہ اپنے برادر ممالک کے ساتھ اسی عہد پر قائم رہے گا۔

اسی طرح حکمت کے ساتھ معاملات چلائے جاتے ہیں اور اسی طرح بصیرت کام کرتی ہے۔ اللہ کے نام پر ہمارا قافلہ آگے بڑھتا رہے گا، چاہے دشمن کتنا ہی شور کیوں نہ مچائیں اور حسد میں اپنی انگلیاں کیوں نہ کاٹیں۔