قیادت نے ہمیشہ اس اصول پر عمل کیا کہ اصل اہمیت عمل کی ہے، نہ کہ صرف باتوں کی۔ جبکہ سوشل میڈیا کا شور مچانے والا طبقہ چیخ و پکار میں مصروف تھا، سعودی عرب تحمل، صبر اور حکمت کے ساتھ کام کرتا رہا۔
جب چاپلوس نعرے لگا رہے تھے، تب مملکت خاموشی سے حالات کا جائزہ لے کر تدبر کے ساتھ فیصلے کر رہی تھی اور اس کے شواہد ہمارے سامنے موجود ہیں۔
جب ایران اور دیگر قوتوں نے سعودی عرب کو تباہی کی آگ میں دھکیلنے کی کوشش کی تو ہماری قیادت نے اپنے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے صبر و تحمل کا راستہ اختیار کیا۔
اگر سعودی عرب چاہتا اور یقیناً اس کی طاقت رکھتا تھا کہ ایران کو ویسا ہی جواب دے اور ایرانی تنصیبات و مفادات کو تباہ کر دے تو اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا تھا کہ خلیج کے ساحلوں سے لے کر مملکت کے اندرونی علاقوں تک سعودی تیل تنصیبات اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس تباہ ہو جاتے۔
سعودی عرب نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دانشمندی اور دور اندیشی سے جنگ کی تباہ کاریوں اور اس کے خطرناک اثرات سے خود کو محفوظ رکھا۔
بلکہ آج سعودی عرب، پاکستان کے ساتھ مل کر جنگ کی آگ بجھانے، کشیدگی کم کرنے اور امن کے خواہش مندوں کو امید دینے میں مصروف ہے تاکہ لوگ اپنے پیاروں اور مفادات کے تحفظ کے بارے میں اطمینان حاصل کر سکیں۔
اس کے برعکس جنگ کے حامی اب بھی اپنی ہٹ دھرمی اور شور و غوغا میں مصروف ہیں، شاید انہیں احساس بھی نہیں کہ زمین ان کے قدموں تلے سے سرک چکی ہے۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے ایران کو یہ موقع بھی نہیں دیا کہ وہ خلیجی ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کر سکے۔