ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ جنگ اور عسکری تناؤ کے دوران پاکستان نمایاں ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔
مزید پڑھیں
اگرچہ ترکی، مصر اور سعودی عرب بھی اس چار فریقی ثالثی گروہ کا حصہ ہیں، لیکن تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکراتی عمل کی قیادت کی بھاری ذمہ داری پاکستان کے کندھوں پر آ پڑی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، تاہم مذاکراتی عمل انتہائی پیچیدہ ہے۔
ایرانی قیادت اس وقت نامعلوم مقامات اور زیر زمین سرنگوں میں موجود ہے، جس کی وجہ سے ان سے رابطہ کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ اس صورتحال نے پاکستانی سفارت کاروں کے لیے چیلنجز بڑھا دیے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی مذاکراتی انداز ان کے روایتی قالینوں کی طرح پیچیدہ اور گرہ دار ہوتا ہے۔
تہران میں سیاسی و بین الاقوامی مطالعاتی مرکز کے ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ ایرانی ذہنیت اسی پیچیدہ طریقے سے کام کرتی ہے، جسے سمجھنا کسی بھی ثالث کے لیے ایک کٹھن مرحلہ ثابت ہوتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کا اندازِ سیاست بیانات اور میڈیا کی توجہ پر مرکوز ہے۔ اُن کی جانب سے مسلسل دھمکی آمیز بیانات اور سخت لہجہ فضا کو مزید گرم کر رہا ہے۔
اس صورتحال نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان لفظی جنگ اب عملی میدان میں بدل چکی ہے۔
خلیجی خطے میں واقع اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز اس وقت شدید تناؤ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
ایران کی جانب سے یہاں ناکابندی کی کوششوں کے بعد امریکہ نے بھی جوابی ناکابندی کر دی ہے۔ ایران اب مختلف طریقوں سے یہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
پاکستان نے امن کی اس تلاش میں اپنی پوری اعلیٰ قیادت کو وقف کر دیا ہے۔
وزیراعظم، وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کے ساتھ ساتھ پاکستانی آرمی چیف نے بھی تہران کا 3 روزہ اہم دورہ کیا ، جس کا مقصد ایرانی قیادت کو قائل کرنا اور بظاہر ناممکن نظر آنے والے حل تلاش کرنا تھا۔
تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی کہ پاکستان اور اس کے اتحادیوں نے خطے کو بڑی تباہی سے بچانے کے لیے انتھک کوششیں کیں۔
مئی 2026 کے ان نازک حالات میں پاکستان کا کردار ایک ایسے پُل کا ہے جو دو دشمنوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔