سام سنگ کی جانب سے اسکرین ٹیکنالوجی کی نئی نسل پر کام شروع کر دیا گیا ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ 2030 تک ایپل کے ہولوگرافک آئی فون کی لانچنگ کا سبب بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
ایکس پر شیڈونگر نامی صارف کی لیکس کے مطابق سام سنگ ’ایم ایچ ون‘ یا ’ایچ ون‘ نامی خفیہ پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے، جس میں نینو لیئر کے ذریعے تھری ڈی اثرات پیدا کیے جائیں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ٹیکنالوجی آنکھوں کی حرکت اور روشنی کی سمت متعین کرنے والے سینسرز پر مبنی ہے، جو مخصوص زاویوں سے روشنی منعکس کر کے ہولوگرام جیسا گہرا بصری تاثر پیدا کرتی ہے۔
اس جدید ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ تھری ڈی مواد کو فون کی سطح پر تیرتا ہوا دکھائے گی، جبکہ روایتی ٹو ڈی مواد کے لیے فور کے (4K) ریزولوشن کے اعلیٰ معیار کو بھی برقرار رکھا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں ایسے الگورتھم استعمال کیے جائیں گے جو 360 ڈگری پر مشتمل انٹرایکٹو مواد دکھانے کی صلاحیت رکھیں گے۔
اس ٹیکنالوجی سے صارف فون گھما کر ویڈیو کے مختلف زاویے بالکل حقیقت کی طرح دیکھ سکے گا۔
دوسری جانب ایپل اپنے اندرونی پروجیکٹ ’اسپیشل آئی فون‘ پر کام کر رہا ہے، جو ڈیجیٹل اور طبعی دنیا کو یکجا کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔اسے ویژن پرو جیسی ڈیوائسز کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایپل کو یہ فائدہ حاصل ہے کہ اس کے پاس اسپیشل فوٹوز، ویڈیوز اور آڈیو کا وسیع ذخیرہ موجود ہے، جو ہولوگرافک اسکرین والے فون کی لانچنگ کے وقت صارفین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ منصوبہ ابھی ابتدائی تحقیقی مراحل میں ہے اور 2030 تک اس کی تکمیل میں بجلی کی کھپت، ڈسپلے کی درستگی اور صارفین کے تجربے جیسے بڑے تکنیکی چیلنجز حائل ہو سکتے ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے طبی خدشات بھی سامنے آئے ہیں، کیونکہ بصارت کے مسائل کا شکار افراد کے لیے تھری ڈی اثرات کو سمجھنا مشکل ہو سکتا ہے، جس کے لیے کمپنیوں کو ایک جامع ڈیزائن پر کام کرنا ہوگا۔
اسمارٹ فونز کی صنعت میں یہ نئی پیش رفت محض مصنوعی ذہانت یا کارکردگی تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ یہ اسکرین کی ساخت اور ڈیجیٹل مواد کے ساتھ انسانی تعامل کے پورے انداز کو ہی تبدیل کر کے رکھ دے گی۔