بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے تجزیہ کار جیرجیلی مولنار نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث 2026 سے 2030 کے دوران عالمی سطح پر مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی سپلائی میں 120 ارب کیوبک میٹر تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
بڈاپسٹ ایل این جی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے مولنار نے واضح کیا کہ اس جنگ نے درمیانی مدت کے لیے گیس کے حوالے سے تمام تر اندازوں کو بدل کر رکھ دیا ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں گیس کی قلت توقع سے زیادہ طویل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع نے ایل این جی کی عالمی سپلائی میں پہلے ہی تقریباً 15 فیصد تک کمی کر دی ہے، جس کے براہ
راست اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں اور قیمتوں پر واضح طور پر نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں قطر کی ایل این جی برآمد کرنے کی صلاحیت کا 17 فیصد حصہ شدید متاثر ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس صورت حال کی وجہ سے موسم گرما کے آغاز سے قبل ہی یورپ اور ایشیا کو گیس کی فراہمی کے حوالے سے سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
موسم گرما کا وقت عام طور پر سردیوں کی تیاری کے لیے گیس کے ذخائر بھرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں یورپی یونین کے گیس ذخائر کی سطح گزشتہ 5 سال کی اوسط سے تقریباً 30 فیصد تک کم ہو چکی ہے۔
یورپی یونین کو اپنے گیس ذخائر مقررہ 90 فیصد ہدف تک پہنچانے کے لیے مزید 10 ارب کیوبک میٹر گیس کی ضرورت ہے، جو موجودہ سپلائی چین میں پیدا ہونے والے تعطل اور جنگی حالات کی وجہ سے بڑا چیلنج ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی حاصل کردہ دستاویزات کے مطابق یورپی یونین کے وزرائے توانائی اگلے ہفتے ایک غیر معمولی اجلاس میں مقامی سطح پر گیس کی پیداوار بڑھانے پر غور کریں گے تاکہ ایرانی جنگ کے معاشی اثرات کو کم کیا جا سکے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 برس کے دوران یورپی یونین کی مقامی گیس کی پیداوار نصف رہ گئی ہے۔
اس بحران کی بنیادی وجوہات تلاش کے کاموں میں سرمایہ کاری کی کمی اور ہالینڈ کے بڑے گروننگن گیس فیلڈ کی زلزلوں کے باعث بندش بتائی جاتی ہے۔
یورپی یونین میں گیس کے سب سے بڑے تجارتی ذخائر رکھنے والے ممالک رومانیہ اور قبرص نے اب اپنی مقامی پیداوار میں اضافے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ خطے کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے۔