متبادل بحری
راستوں کو ناکام
بنانے کی
کوششیں تیز
اس تجزیے کے مطابق، امارات کو نشانہ بنانا کوئی الگ واقعہ نہیں بلکہ ایک پیشگی کارروائی ہے، جس کا مقصد کسی بھی ایسے متبادل راستے کو ناکام بنانا ہے جو جہازوں کو بحیرۂ عمان کے ذریعے آبنائے ہرمز سے بچ کر گزرنے کی اجازت دے سکتا ہو، خاص طور پر اس وقت جب نئے بحری راستوں کی بات ہو رہی ہے۔
بریگیڈیئر حنا کے مطابق خلیج کے حساس علاقوں میں بارودی سرنگوں کی تنصیب کے امکانات بھی موجود ہیں، جس سے کسی بھی مخالف بحری نقل و حرکت کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔
دوسری جانب عسکری ماہر اس بات کو مسترد کرتے ہیں کہ یہ صورتحال Mosaic War کا تسلسل ہے، جو عسکری فیصلوں میں غیر مرکزیت پر مبنی ہوتی ہے۔
ان کے مطابق، یہ مرحلہ ابتدائی مراحل سے آگے نکل چکا ہے اور اس نوعیت کی کارروائیاں صرف تہران کی اعلیٰ قیادت کے مرکزی فیصلے کے تحت ہی ممکن ہیں، خاص طور پر حالیہ حملوں کے بعد قیادت کی تنظیمِ نو کے تناظر میں۔
بریگیڈیئر حنا کے مطابق ایرانی پیغامات کئی سطحوں پر مشتمل ہیں:
- ایک جانب سمندر میں نئی روک تھام (Deterrence) کی مساوات قائم کرنا
- دوسری جانب واشنگٹن کو اشتعال دلانا تاکہ وہ براہِ راست ردِعمل دے اور کسی بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرے
- اور ممکنہ طور پر یہ ایک وسیع تر مذاکراتی حکمتِ عملی کا حصہ بھی ہے، جس کے تحت ایران زمینی دباؤ کے کارڈز پیدا کر کے بعد میں مذاکرات کی میز پر استعمال کر سکتا ہے۔
جہاں تک جنگ کے دوبارہ آغاز کا تعلق ہے، عسکری ماہر کے مطابق یہ سب کے لیے ایک مہنگا آپشن ہے۔
کسی بھی امریکی کشیدگی کے لیے ایک واضح اور مؤثر اہداف کی فہرست درکار ہوگی، جو فیصلہ کن فتح دلانے کی صلاحیت رکھتی ہو—اور یہ کوئی یقینی بات نہیں۔
دوسری طرف، ایران وقت کو اپنے حق میں استعمال کرنے اور مخالفین کو تھکانے کی حکمتِ عملی پر انحصار کر رہا ہے، خاص طور پر بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں قانونی اور عسکری پیچیدگیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے۔
آخر میں بریگیڈیئر حنا اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خلیج میں ہونے والی کارروائیاں ایک نازک کھیل کا حصہ ہیں، جہاں روک تھام اور مذاکرات ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
نہ کوئی فریق مکمل پسپائی کے لیے تیار ہے اور نہ ہی مکمل جنگ کے لیے، جس کے باعث صورتحال ہر ممکن امکان کے لیے کھلی ہوئی ہے—چاہے وہ ایک بڑی ڈیل ہو یا وسیع علاقائی دھماکہ۔