اسرائیل کی ایک عدالت نے غزہ کا بحری محاصرہ توڑنے کی کوشش کرنے والے برازیلی کارکن تیاگو اویلا اور ہسپانوی شہری سیف ابو کشک کی مدت حراست میں 2 روز کا اضافہ کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ مطابق ان دونوں کارکنوں کو گزشتہ جمعرات کو بین الاقوامی سمندر سے گرفتار کیا گیا تھا۔
عسقلان میں عدالت پیشی کے موقع پر تیاگو اویلا کو ہتھکڑیاں جبکہ سیف ابو کشک کے پیروں میں آہنی زنجیریں بندھی ہوئی تھیں۔
اسرائیلی بحریہ نے یونانی جزیرے کریٹ کے قریب ساحل سے ایک ہزار کلومیٹر دُور بین الاقوامی پانیوں میں کارروائی کرتے ہوئے 21 بحری جہازوں پر قبضہ کر لیا تھا۔
اس آپریشن کے دوران مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں انسانی حقوق کے کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔
اسرائیلی حکام نے یونان کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت زیادہ تر کارکنوں کو کریٹ میں اتار دیا تھا، تاہم تیاگو اویلا اور سیف ابو کشک کو رہا نہیں کیا گیا۔
ان دونوں پر حماس سے وابستہ تنظیم ’پاپولر کانفرنس فار فلسطینیز ابراڈ‘ کے لیے کام کرنے کا الزام ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ’عدالہ‘ کے مطابق دونوں کارکنوں نے دوران حراست شدید جسمانی تشدد، مار پیٹ اور تنہائی میں رکھنے کی شکایت کی ہے۔
انہوں نے اپنی غیر قانونی گرفتاری اور بدسلوکی کے خلاف جیل میں احتجاج کے طور پر بھوک ہڑتال بھی شروع کر رکھی ہے۔
دوسری جانب برازیل اور اسپین نے اپنے شہریوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔
ہسپانوی وزیر خارجہ ہوزے مینوئل الباریس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے الزامات کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے ۔ بین الاقوامی پانیوں سے یہ گرفتاری مکمل طور پر غیر قانونی اور اختیارات سے تجاوز ہے۔
یاد رہے کہ یہ امدادی بیڑہ فرانس، اسپین اور اٹلی کی بندرگاہوں سے روانہ ہوا تھا جس میں مجموعی طور پر 50 سے زائد بحری جہاز شامل تھے۔
اسرائیل نے 175 کارکنوں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے جبکہ بیڑے کے منتظمین کے مطابق اسرائیلی فوج نے 211 افراد کو اغوا کیا ہے۔
تیاگو اویلا کی اہلیہ لارا سوزا نے اپنے شوہر کی حالت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ انسانی امداد پہنچانا دہشت گردی نہیں بلکہ نسل کشی کا شکار لوگوں کا بنیادی اور اخلاقی حق ہے۔
لارا سوزا نے واضح کیا کہ ان کے شوہر کسی دہشت گرد گروہ کا حصہ نہیں بلکہ ایک انسانی ہمدرد ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ برازیل، اسپین، سویڈن اور اٹلی کی حکومتوں سے رابطے میں ہیں تاکہ گرفتار کارکنوں کی بحفاظت واپسی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
واضح رہے کہ برازیلیا میں 1986 میں پیدا ہونے والے تیاگو گزشتہ 20 سال سے فلسطینی کاز کے لیے سرگرم ہیں۔
وہ ’فریڈم فلوٹیلا‘اتحاد کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے رکن بھی ہیں اور اس سے قبل 7 ماہ پہلے بھی وہ اسرائیل کی قید میں بھوک ہڑتال کر چکے ہیں۔
تیاگو اویلا کو لاطینی امریکہ میں بحری سرگرمیوں کے ذریعے غزہ کا محاصرہ توڑنے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ان کی حالیہ گرفتاری نے ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق اور جنگی علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی قانونی حیثیت پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔