اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

امارات کا 3 ایرانی کروز میزائل تباہ کرنے کا اعلان، چوتھا سمندر برد

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
خلیج عرب میں امارات پر ایرانی میزائل حملے کو روکنے والا دفاعی نظام اور فجیرہ میں لگی آگ کا منظر
متحدہ عرب امارات میں ایرانی حملے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے (فائل فوٹو: انٹرنیٹ)

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے ایران کی جانب سے داغے گئے 4 کروز میزائلوں میں سے تین کو تباہ کردیا جبکہ ایک سمندر میں گر گیا۔

مزید پڑھیں

حکام کے مطابق 3 میزائلوں کو اماراتی سمندری حدود کے اوپر کامیابی سے تباہ کر دیا گیا جبکہ چوتھا میزائل سمندر میں جا گرا۔

اتھارٹی برائے ہنگامی حالات و آفات نے اس میزائل خطرے کے پیش نظر شہریوں اور مقیم افراد کے لیے فوری الرٹ جاری کردیا ہے۔

قبل ازیں عوام کو محفوظ مقام پر رہنے کی ہدایت جاری کردی گئی تھی اور خطرہ ٹلنے پر دوبارہ معمولات زندگی بحال کرنے کا پیغام دیا گیا۔

دوسری جانب ریاست فجیرہ میں ایرانی ڈرون حملے کے نتیجے میں پیٹرولیم انڈسٹری کے علاقے میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ سول ڈیفنس کی ٹیمیں جائے وقوع پر موجود ہیں اور صنعتی زون میں لگی اس آگ پر قابو پانے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

irani missile
(فوٹو: انٹرنیٹ)

متحدہ عرب امارات نے آج ہی آبنائے ہرمز میں ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ایڈنوک) کے ایک آئل ٹینکر پر ہونے والے حملے کی بھی شدید مذمت کی ہے۔

اس بحری جہاز کو 2 ایرانی ڈرونز کے ذریعے اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا، جب وہ عالمی گزرگاہ سے گزر رہا تھا۔

یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے آغاز کا بتایا تھا۔ 

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ ان کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز خلیج عرب میں موجود ہیں۔

بحری نقشے پر آبنائے ہرمز کی ناکابندی اور 'شیڈو فلیٹ' کے خفیہ راستوں کی نشاندہی
امریکی دباؤ برقرار، خوراک کے ذخائر 3 ماہ میں ختم ہونے کا خدشہ (فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکی عسکری حکام کے مطابق ان کی افواج اس تزویراتی اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ میں تجارتی جہاز رانی کی بحالی کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں امریکی بحریہ کی موجودگی کا مقصد ایرانی خطرات کے خلاف اتحادیوں کو تحفظ فراہم کرنا اور عالمی سپلائی لائن برقرار رکھنا ہے۔

واضح رہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ کے دوران 28 فروری سے 8 اپریل تک ایران نے امارات پر 2800 ڈرونز اور میزائل داغے ہیں۔ 

جنگ بندی کے نفاذ سے قبل ہونے والے ان حملوں نے خطے میں سیکیورٹی صورتحال کو انتہائی سنگین بنا دیا تھا۔