متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے ایران کی جانب سے داغے گئے 4 کروز میزائلوں میں سے تین کو تباہ کردیا جبکہ ایک سمندر میں گر گیا۔
مزید پڑھیں
حکام کے مطابق 3 میزائلوں کو اماراتی سمندری حدود کے اوپر کامیابی سے تباہ کر دیا گیا جبکہ چوتھا میزائل سمندر میں جا گرا۔
اتھارٹی برائے ہنگامی حالات و آفات نے اس میزائل خطرے کے پیش نظر شہریوں اور مقیم افراد کے لیے فوری الرٹ جاری کردیا ہے۔
دوسری جانب ریاست فجیرہ میں ایرانی ڈرون حملے کے نتیجے میں پیٹرولیم انڈسٹری کے علاقے میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ سول ڈیفنس کی ٹیمیں جائے وقوع پر موجود ہیں اور صنعتی زون میں لگی اس آگ پر قابو پانے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے آج ہی آبنائے ہرمز میں ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ایڈنوک) کے ایک آئل ٹینکر پر ہونے والے حملے کی بھی شدید مذمت کی ہے۔
اس بحری جہاز کو 2 ایرانی ڈرونز کے ذریعے اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا، جب وہ عالمی گزرگاہ سے گزر رہا تھا۔
یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے آغاز کا بتایا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ ان کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز خلیج عرب میں موجود ہیں۔
امریکی عسکری حکام کے مطابق ان کی افواج اس تزویراتی اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ میں تجارتی جہاز رانی کی بحالی کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں امریکی بحریہ کی موجودگی کا مقصد ایرانی خطرات کے خلاف اتحادیوں کو تحفظ فراہم کرنا اور عالمی سپلائی لائن برقرار رکھنا ہے۔
واضح رہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ کے دوران 28 فروری سے 8 اپریل تک ایران نے امارات پر 2800 ڈرونز اور میزائل داغے ہیں۔
جنگ بندی کے نفاذ سے قبل ہونے والے ان حملوں نے خطے میں سیکیورٹی صورتحال کو انتہائی سنگین بنا دیا تھا۔