اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

’مُردے زندہ نہیں ہوتے‘ ایران جنگ نے امریکی سپرٹ ایئرلائنز کو دفن کردیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
گراؤنڈ کیے گئے طیارے اور سپرٹ ایئرلائنز کا دیوالیہ ظاہر کرتا ہوا کمپنی کا لوگو اور امریکی پرچم
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

ایران جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے امریکی فضائی کمپنی ’سپرٹ ایئرلائنز‘ (Spirit Airlines) کو درپیش بحران سے نکالنے کی تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے، جس کے بعد کمپنی نے اپنے تمام آپریشنز مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں

کمپنی کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ بیان میں انتہائی افسوس کے ساتھ تمام پروازوں کی فوری منسوخی کا اعلان کیا گیا۔ 

سپرٹ ایئرلائنز کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے صارفین کو اب مزید خدمات فراہم کرنے سے قاصر ہے، تاہم اسے گزشتہ 34 برسوں کے دوران اپنے گاہکوں کے لیے فراہم کردہ ’لو کاسٹ‘ (سستی) فضائی خدمات فراہم کرنے پر فخر ہے۔

بحران کی گہرائی اور ناکام کوششیں

’سپرٹ ایئرلائنز‘ پر تقریباً 3 ارب ڈالر کے قرضے واجب الادا ہیں۔

خبر رساں ادارے ’فنانشل ٹائمز‘ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کمپنی کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے 500 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کی پیشکش کی تھی، تاہم کمپنی کے قرض دہندگان نے اس حکومتی پیکیج کو مسترد کر دیا۔

ایران جنگ اور عالمی فضائی صنعت
سستی پروازوں کا خاتمہ؟ ایران جنگ نے عالمی ایوی ایشن کو ہلا کر رکھ دیا (فوٹو: انٹرنیٹ)

قرض دہندگان میں شامل سیٹاڈیل امریکہ، ایریز کیپٹل اور پیمکو جیسے گروپس کا کہنا ہے کہ کمپنی کے آپریشنل نقصانات اور ایندھن کی بلند قیمتوں کے پیش نظر موجودہ کاروباری ماڈل کو جاری رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔

کمپنیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اب سپرٹ ایئرلائنز کی ری اسٹرکچرنگ کے بجائے اس کے اثاثوں کی فروخت (لیکویڈیشن) کے حق میں ہیں۔

ایک قرض دہندہ نے فنانشل ٹائمز  سے بات کرتے ہوئے تلخ حقیقت کا اظہار کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے بچانے کی غیر معمولی کوششیں کی ہیں، لیکن ہم مُردوں کو زندہ نہیں کر سکتے۔ 

انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سستی فضائی سروس کے اس ماڈل کی بحالی اب ناممکن ہو چکی ہے۔

گراؤنڈ کیے گئے طیارے اور سپرٹ ایئرلائنز کا دیوالیہ ظاہر کرتا ہوا کمپنی کا لوگو اور امریکی پرچم
کمپنی کو 360 ملین ڈالر اضافی اخراجات کا خطرہ (فوٹو: انٹرنیٹ)

سیاسی الزام تراشی

دوسری جانب کمپنی کے خاتمے پر امریکی سیاسی ایوانوں میں بھی گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔

ڈیموکریٹک سینیٹر الزبتھ وارن نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ سپرٹ ایئرلائنز کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا ہے۔

اس کے جواب میں ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے بائیڈن انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ دور میں جیٹ بلیو (Jet Blue) اور سپرٹ کے انضمام کو روکنے کے عدالتی اور حکومتی فیصلوں نے کمپنی کی کمر توڑ دی، جس پر اب ایندھن کی قیمتوں کے بوجھ نے اسے مکمل طور پر گرا دیا ہے۔

گراؤنڈ کیے گئے طیارے اور سپرٹ ایئرلائنز کا دیوالیہ ظاہر کرتا ہوا کمپنی کا لوگو اور امریکی پرچم
(فوٹو: انٹرنیٹ)

صنعت پر منڈلاتے خطرات

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے طیاروں کے ایندھن کی قیمتیں دگنی ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے صرف سپرٹ ایئرلائنز ہی نہیں، بلکہ پوری امریکی ہوابازی کی صنعت شدید دباؤ کا شکار ہے۔

’امریکن ایئرلائنز‘ سمیت دنیا بھر کی بڑی فضائی کمپنیاں، مثلاً لفتھانزا، کیتھے پیسیفک اور ایئر فرانس بھی ایندھن کے بڑھتے اخراجات کے پیش نظر اپنی پروازوں میں کمی اور ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

ماہرین کا خدشہ ہے کہ اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو دیگر ’لو کاسٹ‘ (کم قیمت)  ایئرلائنز کا مستقبل بھی داؤ پر لگ سکتا ہے۔ 

اسی خوف کے پیش نظر سستی فضائی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں نے ٹرمپ انتظامیہ سے 2.5 ارب ڈالر کے ہنگامی امدادی پیکیج کا مطالبہ کیا ہے تاکہ فضائی صنعت کو مکمل انہدام سے بچایا جا سکے۔

گراؤنڈ کیے گئے طیارے اور سپرٹ ایئرلائنز کا دیوالیہ ظاہر کرتا ہوا کمپنی کا لوگو اور امریکی پرچم
(فوٹو: انٹرنیٹ)