پابندیوں نے
ایران کا سفارتی
دائرہ محدود کر دیا
اس گروہ کی قوت اس کے عوامی اثر میں نہیں بلکہ اس کی نظریاتی وابستگی اور ریاستی ڈھانچے کے اندر موجود روابط میں ہے۔
یہ اپنی زبان اور بیانیے کے ذریعے کسی بھی سفارتی پیش رفت کو مشکوک بناتا ہے، مخالفین پر کمزوری یا انحراف کے الزامات لگاتا ہے اور اس طرح کسی بھی سمجھوتے کی سیاسی قیمت بڑھا دیتا ہے۔
یہ رویہ کوئی نیا نہیں بلکہ 1979 کے بعد سے ایرانی سیاسی ثقافت کا حصہ رہا ہے، جہاں مغرب کے ساتھ مذاکرات کو محض پالیسی نہیں بلکہ نظریاتی امتحان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اس بیانیے میں مذاکرات کرنے والے اکثر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں، اور رعایت کو پسپائی یا اصولوں سے انحراف قرار دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً، ایرانی سفارتکاری اکثر اندرونی دباؤ کا شکار رہتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دباؤ صرف اصلاح پسندوں تک محدود نہیں بلکہ نظام کے اندر موجود قدامت پسند شخصیات کو بھی متاثر کرتا ہے۔
مثال کے طور پر محمد باقر قالیباف جیسے رہنما، جو خود نظام کا حصہ اور سابق فوجی کمانڈر ہیں، بھی تنقید سے محفوظ نہیں رہتے اگر وہ مذاکراتی عمل میں شامل ہوں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ افراد کا نہیں بلکہ سفارتکاری کے تصور کا ہے۔
یہی طرزِ عمل جوہری معاہدے اور اس کی بحالی کی کوششوں میں بھی دیکھا گیا، جہاں سخت گیر حلقوں نے عالمی نظام سے کسی بھی قسم کے انضمام کو خطرہ قرار دیا۔
ان کے نزدیک ہر سفارتی قدم کسی نہ کسی جال کا حصہ ہے اور ہر رعایت کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔
اس کے باوجود، اس دھڑے کی عوامی بنیاد محدود ہے۔
انتخابات میں اس کی کارکردگی کمزور رہی ہے اور اس کی حمایت زیادہ تر نظریاتی اقلیت تک محدود ہے۔
حتیٰ کہ قدامت پسند حلقوں میں بھی اسے اکثر مشکل اور رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔
یہ بات ابراہیم رئیسی کے دور میں بھی سامنے آئی، جب ان کی حکومت کو بھی اسی سخت گیر رویے سے نمٹنے میں مشکلات پیش آئیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اختلاف صرف اصلاح پسند اور قدامت پسند کے درمیان نہیں بلکہ نظام کے اندر مختلف طرزِ فکر کے درمیان ہے۔
دوسری جانب قاليباف جیسے رہنما ایک مختلف نقطۂ نظر کی نمائندگی کرتے ہیں، جو عملی سیاست اور معاشی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہیں۔
وہ کسی بنیادی نظریاتی تبدیلی کے حامی نہیں مگر یہ سمجھتے ہیں کہ سفارتکاری کے ذریعے دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔
یہی بات سخت گیر دھڑے کے لیے خطرہ بن جاتی ہے کیونکہ اس سے ان کے بیانیے کی اہمیت کم ہو سکتی ہے۔
حالیہ عرصے میں اس دھڑے پر تنقید کا دائرہ وسیع ہوا ہے، اور بعض قدامت پسند میڈیا ادارے بھی اس کے رویے کو داخلی تقسیم کا سبب قرار دینے لگے ہیں۔
یہ اس بات کی علامت ہے کہ نظام کے اندر توازن برقرار رکھنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
قدامت پسند
حلقوں میں بھی
سخت گیر رویے
پر تنقید
اگرچہ سخت گیر عناصر کے پاس اب بھی میڈیا، پارلیمان اور مذہبی نیٹ ورکس جیسے ذرائع موجود ہیں مگر وہ مکمل طور پر پالیسی کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، خاص طور پر اگر اعلیٰ قیادت مذاکرات کو ضروری سمجھے۔
بنیادی حقیقت یہ ہے کہ ایران ایک منقسم مگر فعال نظام ہے، جہاں مختلف دھڑے آپس میں مقابلہ کرتے ہیں مگر سب کا مشترکہ مقصد نظام کا تسلسل ہے۔
جب قیادت کو محسوس ہوتا ہے کہ سفارتکاری بقا کے لیے ضروری ہے تو وہ اس راستے پر گامزن ہو جاتی ہے، چاہے اندرونی مخالفت کیوں نہ ہو۔
آخرکار، ایران میں جاری بحث کسی بنیادی ٹوٹ پھوٹ کی نہیں بلکہ اس بات کی ہے کہ سفارتکاری کو کس حد تک اپنایا جائے۔
سخت گیر عناصر اس عمل کو مشکل ضرور بنا سکتے ہیں، مگر مکمل طور پر روک نہیں سکتے، جب تک کہ نظام کے دیگر حصے اسے جاری رکھنے کے حق میں ہوں۔