اہم خبریں
6 May, 2026
--:--:--

ایرانی انتظامیہ کا اختلاف: ڈیل کے حامی بمقابلہ جنگ کے داعی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکہ مذاکرات
ایران میں اختلافات موجود مگر بنیادی پالیسی پر اتفاق برقرار (فوٹو: المجلہ)

واشنگٹن میں حالیہ دنوں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ ایران کا نظام اندرونی طور پر شدید تقسیم کا شکار ہے اور شاید اس حد تک منقسم ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے مقابلے میں کوئی سنجیدہ سفارتی فیصلہ کرنے سے قاصر ہو۔ 

اس بحث میں عموماً یہ تصور پیش کیا جاتا ہے کہ ایک دھڑا امریکہ سے معاہدہ چاہتا ہے جبکہ دوسرا محاذ آرائی کا حامی ہے اور نظام ان دونوں کے درمیان پھنسا ہوا ہے تاہم یہ تصویر حد سے زیادہ سادہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایرانی حکمران اشرافیہ میں اختلافات ضرور موجود ہیں، مگر وہ بنیادی طور پر مذاکرات کے اصول پر نہیں بلکہ اس کی شرائط اور رفتار پر ہیں۔ 

مزید پڑھیں

المحلہ کی رپورٹ کے مطابق نظام کے وسیع حلقوں میں یہ ادراک بڑھ رہا ہے کہ ملکی معیشت کمزور ہو چکی ہے اور پابندیوں نے گنجائش کو محدود کر دیا ہے۔ 

اس لیے اگر ایسا سفارتی موقع میسر آئے جس سے دباؤ کم ہو اور اسے ہتھیار ڈالنے کے طور پر نہ دیکھا جائے تو واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ مفید ہو سکتا ہے۔ 

اصل اختلاف اس بات پر ہے کہ کتنی رعایت دی جائے، کس رفتار سے پیش رفت ہو اور کیسے اس عمل کو کمزوری کے تاثر سے بچایا جائے۔

564646
معیشت کی کمزوری نے مذاکرات کی ضرورت بڑھا دی (فوٹو: المجلہ)

اسی تناظر میں سخت گیر دھڑے کا کردار نمایاں ہوتا ہے، جو فیصلہ ساز سے زیادہ رکاوٹ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 

یہ گروہ تعداد میں غالب نہیں مگر اس کی تنظیمی اور میڈیا طاقت اسے اثرانداز بناتی ہے۔ 

اس دھڑے کی قیادت سعید جلیلی جیسے رہنما کرتے ہیں، جنہوں نے اپنی سیاست مغرب کے ساتھ کسی بھی مفاہمت کی مخالفت پر قائم کی ہے اور جن کے گرد ایک منظم نیٹ ورک موجود ہے۔

پابندیوں نے
ایران کا سفارتی
دائرہ محدود کر دیا

اس گروہ کی قوت اس کے عوامی اثر میں نہیں بلکہ اس کی نظریاتی وابستگی اور ریاستی ڈھانچے کے اندر موجود روابط میں ہے۔
یہ اپنی زبان اور بیانیے کے ذریعے کسی بھی سفارتی پیش رفت کو مشکوک بناتا ہے، مخالفین پر کمزوری یا انحراف کے الزامات لگاتا ہے اور اس طرح کسی بھی سمجھوتے کی سیاسی قیمت بڑھا دیتا ہے۔
یہ رویہ کوئی نیا نہیں بلکہ 1979 کے بعد سے ایرانی سیاسی ثقافت کا حصہ رہا ہے، جہاں مغرب کے ساتھ مذاکرات کو محض پالیسی نہیں بلکہ نظریاتی امتحان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اس بیانیے میں مذاکرات کرنے والے اکثر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں، اور رعایت کو پسپائی یا اصولوں سے انحراف قرار دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً، ایرانی سفارتکاری اکثر اندرونی دباؤ کا شکار رہتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دباؤ صرف اصلاح پسندوں تک محدود نہیں بلکہ نظام کے اندر موجود قدامت پسند شخصیات کو بھی متاثر کرتا ہے۔

 مثال کے طور پر محمد باقر قالیباف جیسے رہنما، جو خود نظام کا حصہ اور سابق فوجی کمانڈر ہیں، بھی تنقید سے محفوظ نہیں رہتے اگر وہ مذاکراتی عمل میں شامل ہوں۔ 

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ افراد کا نہیں بلکہ سفارتکاری کے تصور کا ہے۔

564654
قاليباف جیسے رہنما عملی راستے کے حامی

یہی طرزِ عمل جوہری معاہدے اور اس کی بحالی کی کوششوں میں بھی دیکھا گیا، جہاں سخت گیر حلقوں نے عالمی نظام سے کسی بھی قسم کے انضمام کو خطرہ قرار دیا۔ 

ان کے نزدیک ہر سفارتی قدم کسی نہ کسی جال کا حصہ ہے اور ہر رعایت کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔

اس کے باوجود، اس دھڑے کی عوامی بنیاد محدود ہے۔ 

انتخابات میں اس کی کارکردگی کمزور رہی ہے اور اس کی حمایت زیادہ تر نظریاتی اقلیت تک محدود ہے۔ 

حتیٰ کہ قدامت پسند حلقوں میں بھی اسے اکثر مشکل اور رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔

یہ بات ابراہیم رئیسی کے دور میں بھی سامنے آئی، جب ان کی حکومت کو بھی اسی سخت گیر رویے سے نمٹنے میں مشکلات پیش آئیں۔ 

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اختلاف صرف اصلاح پسند اور قدامت پسند کے درمیان نہیں بلکہ نظام کے اندر مختلف طرزِ فکر کے درمیان ہے۔

دوسری جانب قاليباف جیسے رہنما ایک مختلف نقطۂ نظر کی نمائندگی کرتے ہیں، جو عملی سیاست اور معاشی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہیں۔ 

وہ کسی بنیادی نظریاتی تبدیلی کے حامی نہیں مگر یہ سمجھتے ہیں کہ سفارتکاری کے ذریعے دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔ 

یہی بات سخت گیر دھڑے کے لیے خطرہ بن جاتی ہے کیونکہ اس سے ان کے بیانیے کی اہمیت کم ہو سکتی ہے۔

546446
سخت گیر دھڑا مذاکرات کو مشکل بناتا ہے

حالیہ عرصے میں اس دھڑے پر تنقید کا دائرہ وسیع ہوا ہے، اور بعض قدامت پسند میڈیا ادارے بھی اس کے رویے کو داخلی تقسیم کا سبب قرار دینے لگے ہیں۔ 

یہ اس بات کی علامت ہے کہ نظام کے اندر توازن برقرار رکھنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

قدامت پسند
حلقوں میں بھی
سخت گیر رویے
پر تنقید

اگرچہ سخت گیر عناصر کے پاس اب بھی میڈیا، پارلیمان اور مذہبی نیٹ ورکس جیسے ذرائع موجود ہیں مگر وہ مکمل طور پر پالیسی کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، خاص طور پر اگر اعلیٰ قیادت مذاکرات کو ضروری سمجھے۔
بنیادی حقیقت یہ ہے کہ ایران ایک منقسم مگر فعال نظام ہے، جہاں مختلف دھڑے آپس میں مقابلہ کرتے ہیں مگر سب کا مشترکہ مقصد نظام کا تسلسل ہے۔
جب قیادت کو محسوس ہوتا ہے کہ سفارتکاری بقا کے لیے ضروری ہے تو وہ اس راستے پر گامزن ہو جاتی ہے، چاہے اندرونی مخالفت کیوں نہ ہو۔
آخرکار، ایران میں جاری بحث کسی بنیادی ٹوٹ پھوٹ کی نہیں بلکہ اس بات کی ہے کہ سفارتکاری کو کس حد تک اپنایا جائے۔

سخت گیر عناصر اس عمل کو مشکل ضرور بنا سکتے ہیں، مگر مکمل طور پر روک نہیں سکتے، جب تک کہ نظام کے دیگر حصے اسے جاری رکھنے کے حق میں ہوں۔