حکام کا دعویٰ:
طلب مضبوط
جلد بحالی متوقع
مزید برآں، کاروباری سفر، سیاحت اور ٹرانزٹ ٹریفک تینوں شعبے متاثر ہوئے، کیونکہ مسافروں نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر سفر مؤخر یا منسوخ کرنا شروع کر دیا۔
خاص طور پر ایشیا، یورپ اور خلیج، افریقہ روٹس پر نمایاں کمی دیکھی گئی۔
تاہم دبئی ایئرپورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ دباؤ عارضی ثابت ہوگا۔
انتظامیہ کے مطابق بنیادی سفری طلب اب بھی مضبوط ہے اور جیسے ہی فضائی حدود مکمل طور پر بحال ہوں گی، ٹریفک میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے۔
ایئرپورٹ انتظامیہ اس وقت ایئرلائنز، سول ایوی ایشن اتھارٹیز اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر پروازوں کی تعداد بڑھانے، روٹس کو بحال کرنے اور آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ دبئی ایئرپورٹ اپنی اعلیٰ آپریشنل لچک اور طویل المدتی توسیعی حکمت عملی کے باعث آئندہ مہینوں میں بڑھتی ہوئی فضائی ٹریفک کو سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوتی ہے اور جنگ بندی برقرار رہتی ہے، تو دبئی ایئرپورٹ دوبارہ تیزی سے اپنی پوزیشن بحال کر سکتا ہے کیونکہ یہ عالمی ہوا بازی کا ایک اہم مرکز ہے جہاں سے سینکڑوں بین الاقوامی روٹس جڑے ہوئے ہیں۔