اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

دبئی ایئرپورٹ کو دھچکا: مسافروں میں 65 فیصد تک کمی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
دبئی ایئرپورٹ مسافر کمی
پہلی سہ ماہی میں 18.6 ملین مسافر—20.6% کمی

دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے مارچ 2026 کے دوران مسافروں کی آمد و رفت میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی ہے جہاں سالانہ بنیاد پر 65.7 فیصد کی نمایاں گراوٹ سامنے آئی ہے۔ 

یہ کمی خطے میں جاری ایران جنگ اور اس کے نتیجے میں فضائی راستوں پر عائد پابندیوں کا براہِ راست اثر ہے۔

ایئرپورٹ کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس شدید کمی نے پہلی سہ ماہی کی مجموعی کارکردگی کو بھی متاثر کیا، جہاں جنوری تا مارچ کے دوران کل مسافروں کی تعداد 20.6 فیصد کم ہو کر 18.6 ملین رہ گئی۔ 

مزید پڑھیں

اس کے باوجود ایئرپورٹ نے اپنی آپریشنل سرگرمیاں مکمل طور پر بند نہیں کیں بلکہ محدود پیمانے پر جاری رکھیں۔

فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ نے خطے کے اہم فضائی و بحری راستوں کو متاثر کیا، خصوصاً آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث نہ صرف سمندری ٹریفک متاثر ہوئی بلکہ اس کے فضائی اثرات بھی سامنے آئے جبکہ ہزاروں مسافر متاثر ہوئے۔ 

ایران کی جانب سے بارہا سیکیورٹی کارروائیوں اور بعض شہری تنصیبات، بشمول ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے بعد کئی خلیجی اور علاقائی ممالک نے اپنی فضائی حدود جزوی یا مکمل طور پر بند کر دیں۔

two elderly people passing by the airport terminal 2026 03 10 03 56 34 utc
جنگ کے باعث فضائی حدود بند، پروازیں معطل

ان حالات میں متعدد بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں منسوخ یا متبادل راستوں پر منتقل کر دیں، جس سے دبئی جیسے عالمی ٹرانزٹ حب پر دباؤ بڑھا۔ 

طویل فاصلے کی پروازوں کو اضافی ایندھن، زیادہ وقت اور پیچیدہ روٹ پلاننگ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں آپریشنل اخراجات میں بھی اضافہ ہوا۔

حکام کا دعویٰ:
طلب مضبوط
جلد بحالی متوقع

مزید برآں، کاروباری سفر، سیاحت اور ٹرانزٹ ٹریفک تینوں شعبے متاثر ہوئے، کیونکہ مسافروں نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر سفر مؤخر یا منسوخ کرنا شروع کر دیا۔ 
خاص طور پر ایشیا، یورپ اور خلیج، افریقہ روٹس پر نمایاں کمی دیکھی گئی۔
تاہم دبئی ایئرپورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ دباؤ عارضی ثابت ہوگا۔
انتظامیہ کے مطابق بنیادی سفری طلب اب بھی مضبوط ہے اور جیسے ہی فضائی حدود مکمل طور پر بحال ہوں گی، ٹریفک میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے۔

ایئرپورٹ انتظامیہ اس وقت ایئرلائنز، سول ایوی ایشن اتھارٹیز اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر پروازوں کی تعداد بڑھانے، روٹس کو بحال کرنے اور آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔

dubai marina cityscape at daylight 2026 01 08 02 23 11 utc
ایئرلائنز نے روٹس تبدیل اور آپریشنز محدود کیے

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ دبئی ایئرپورٹ اپنی اعلیٰ آپریشنل لچک اور طویل المدتی توسیعی حکمت عملی کے باعث آئندہ مہینوں میں بڑھتی ہوئی فضائی ٹریفک کو سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر خطے میں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوتی ہے اور جنگ بندی برقرار رہتی ہے، تو دبئی ایئرپورٹ دوبارہ تیزی سے اپنی پوزیشن بحال کر سکتا ہے کیونکہ یہ عالمی ہوا بازی کا ایک اہم مرکز ہے جہاں سے سینکڑوں بین الاقوامی روٹس جڑے ہوئے ہیں۔