عسکری بحرانوں نے پچھلے دہائیوں میں عرب دنیا کے فضائی شعبے کو سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شعبہ ثابت کیا ہے، کیونکہ متعدد ہوائی اڈے مسلسل بند رہنے اور سفر و تجارت میں تعطل کا شکار ہوئے ہیں۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق بغداد بین الاقوامی ہوائی اڈہ عرب دنیا میں سب سے زیادہ بندشوں کا شکار رہا ہے خاص طور پر 2003 کے بعد، جس کے بعد شام کے ہوائی اڈے، بشمول دمشق اور حلب بھی بار بار حملوں کی وجہ سے خدمات سے باہر ہو گئے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق یمن میں، صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈہ 2016 سے طویل عرصے تک بند رہا جبکہ عدن ہوائی اڈے میں وقفے وقفے سے بندشیں ہوئیں۔
لیبیا میں طرابلس ہوائی اڈہ 2014 میں تباہ ہونے کے بعد کئی سالوں تک بند رہا اور سوڈان میں جنگ کے آغاز کے بعد 2023 میں الخرطوم بین الاقوامی ہوائی اڈہ مکمل طور پر بند ہو گیا۔
مصر اور اردن میں اثرات کم شدت کے تھے، مصر کے ہوائی اڈوں، خاص طور پر قاہرہ بین الاقوامی ہوائی اڈے، کو 1967 اور 1973 کی جنگوں کے دوران نقصان پہنچا جبکہ شرم الشیخ ہوائی اڈہ 2015 کے حادثے کے بعد طویل حفاظتی بندش کا شکار ہوا۔
اردن میں، ملکہ علیا بین الاقوامی ہوائی اڈہ کو 1991 کی خلیج جنگ میں اور بعد میں عراق و شام کی کشیدگی کے دوران جزوی طور پر بند کیا گیا یا پروازوں کے راستے بدلنے پڑے۔
خلیجی ممالک میں اگرچہ ہوائی اڈوں پر براہِ راست حملے نہیں ہوئے مگر انہیں آپریشنل پابندیوں اور عارضی بندشوں کا سامنا کرنا پڑا۔
کویت بین الاقوامی ہوائی اڈہ سب سے نمایاں مثال ہے، جو خلیج جنگ کے دوران مکمل بند ہوا اور بعد میں علاقائی کشیدگی کے دوران متاثر رہا۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین کے ہوائی اڈوں میں بھی کشیدگی کے دوران پروازوں کی پابندیاں اور راستوں کی تبدیلیاں دیکھی گئیں، نیز کورونا وبا کے دوران مسافروں کی نقل و حمل تقریباً مکمل طور پر بند رہی، جیسا کہ دنیا بھر کے ہوائی اڈوں میں ہوا۔
تخمینوں کے مطابق براہِ راست تنازعہ کے علاقوں میں واقع ہوائی اڈے دیگر کی نسبت تقریباً پانچ گنا زیادہ بندش کا شکار ہوتے ہیں جبکہ مستحکم ممالک میں زیادہ تر اثرات آپریشنل پابندیوں اور پروازوں میں کمی کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔
اس کے باوجود عرب فضائی شعبہ لچکدار رہتا ہے کیونکہ زیادہ تر ہوائی اڈے حالات معمول پر آنے کے بعد نسبتاً کم وقت میں دوبارہ کام کرنے لگتے ہیں، جدید انفراسٹرکچر اور ایمرجنسی پلانز کی بدولت، جو خطے کو عالمی فضائی نقل و حمل کے لیے ایک اہم محور بنائے رکھتے ہیں۔