پندرھویں صدی کے اوائل میں چینی ملاح ’ژینگ ہی‘ نے بحر ہند میں اپنی طاقت کا لوہا منوایا تھا۔
مزید پڑھیں
تاہم ’منگ‘ خاندان نے بعد میں خود کو سمندری دنیا سے کاٹ لیا اور طویل عرصے تک صرف خشکی پر اپنی سرحدوں کے دفاع پر توجہ مرکوز رکھی، جس کا ثبوت دیوارِ چین کی تعمیر ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یورپی بحری طاقتوں کے عروج اور انیسویں صدی میں برطانیہ کے ہاتھوں ’ہانگ کانگ‘ کے قبضے نے چین کے لیے ’ذلت کی ایک صدی‘ کا آغاز کیا۔
یہ دور بعد ازاں 1949 میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام اور ماؤزے تنگ کی قیادت میں کمیونسٹ پارٹی کے کنٹرول کے بعد ہی ختم ہو سکا۔
زمینی قوت سے بحری طاقت تک
تاریخی طور پر چین کا انحصار زراعت اور دریاؤں پر رہا ہے،جس نے اسے ایک دفاعی سوچ دی، جہاں سمندر کو ثانوی حیثیت حاصل تھی۔
تاہم بیسویں صدی کے اختتام پر چین نے یہ سمجھا کہ قومی سلامتی اور اقتصادی بقا کے لیے سمندری راستوں پر غلبہ انتہائی ناگزیر ہے۔
چین کے پاس تقریباً 30 لاکھ مربع کلومیٹر کا سمندری رقبہ ہے، لیکن اس کی سمندری حدود کو ’ جزائر کی پہلی زنجیر‘ جیسے جغرافیائی مسائل کا سامنا ہے۔
یہ سلسلہ جاپان سے تائیوان اور فلپائن سے ہوتا ہوا انڈونیشیا تک جاتا ہے، جو چین کو کھلے سمندروں تک پہنچنے سے روکتا ہے۔
تائیوان اور جنوبی بحیرہ چین کی تزویراتی اہمیت
تائیوان چینی بحری حکمت عملی کے قلب میں ہے، کیونکہ اس کا مشرقی ساحل اسے بحر الکاہل تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ بیجنگ کے ماہرین کے مطابق تائیوان کا مسئلہ حل کیے بغیر چین کی بحری طاقت کی تمام تر خواہشات محض ایک خواب ہی رہیں گی۔
اسی طرح جنوبی بحیرہ چین عالمی تجارت کی اہم ترین شریان ہے، جہاں سے دنیا کی نصف تجارت گزرتی ہے۔
بیجنگ یہاں اپنی خودمختاری کو یقینی بنا کر توانائی کی ترسیل کے راستوں اور قدرتی وسائل کا تحفظ کرنا چاہتا ہے، کیونکہ چین اپنی 80 فیصد تیل کی درآمدات اسی سمندری راستے سے منگواتا ہے۔
چینی بحریہ کا جدید دور
چین کو ملاکا ڈائلما (Malacca Dilemma) کا خوف لاحق ہے، یعنی امریکہ کا کسی بحران کے دوران آبنائے ملاکا کو بند کردے تو چین کی تجارت ٹھپ ہو سکتی ہے۔
اسی لیے صدر شی جن پنگ نے 2013 میں ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو‘ کے تحت سمندری شاہراہ کا آغاز کیا۔
صدر شی کے دور میں چینی بحریہ نے تاریخ کی سب سے بڑی توسیع دیکھی ہے۔
2025 تک کے اعداد و شمار کے مطابق چین کے پاس 234 جنگی جہاز ہیں، جو تعداد کے لحاظ سے امریکی بحریہ (219 جہاز) سے زیادہ ہیں۔
چین بہت تیزی سے اپنی بحری حدود کو مستحکم کر رہا ہے۔
امریکی بحریہ کے ساتھ موازنہ اور تزویراتی مقابلہ
تعداد میں چینی بحریہ بڑی ہے، لیکن امریکی بحریہ اب بھی مجموعی صلاحیت اور تکنیکی برتری رکھتی ہے۔
امریکی بحریہ کے پاس کل وزن 18 لاکھ 50 ہزار ٹن سے زائد ہے، جبکہ اس کے پاس طیارہ بردار جہازوں اور جوہری آبدوزوں کا وسیع تر تجربہ موجود ہے۔
تاہم چین کو یہ جغرافیائی فائدہ حاصل ہے کہ اس کی افواج اپنے ساحلوں کے قریب لڑ رہی ہیں۔
بیجنگ نے ’رسائی سے روکنے‘ (A2/AD) کی حکمت عملی اپنائی ہے، جس میں بیلسٹک میزائل اور جدید آبدوزیں شامل ہیں تاکہ امریکی مداخلت کو روکا جا سکے۔
مستقبل کے چیلنجز
چین کا بحری عروج اب واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بنیادی تناؤ کا سبب ہے۔
امریکہ جہاں اپنے 60 فیصد بحری بیڑے کو بحر الکاہل میں تعینات کر چکا ہے، وہیں چین 2049 تک خود کو عالمی عسکری طاقت بنانے کے ہدف کی جانب گامزن ہے۔
چین کی بحری طاقت میں اضافہ واضح ہے، لیکن عالمی طاقت بننے کے لیے اسے اپنے اتحادی نیٹ ورک اور آپریشنل تجربے میں مزید بہتری لانا ہوگی۔
اس سارے عمل کا حتمی نتیجہ اس بات پر منحصر ہے کہ آیا چین اپنے اہداف کے حصول کے دوران کسی بڑے عالمی تصادم سے بچ سکے گا یا نہیں۔