جنوبی کوریا میں ’اسٹار بکس کوریا‘نے ایک انتہائی متنازع مارکیٹنگ مہم کے بعد ملک بھر میں اپنے تمام کیفے بند کرنے کا غیر معمولی فیصلہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ قدم کمپنی کی جانب سے حساس تاریخی واقعات کو غلط انداز میں پیش کرنے پر عوامی ردعمل کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔
متنازع مہم اور عوامی غم و غصہ
کمپنی نے 18 مئی کو ’ٹینک ڈے‘ کے نام سے ایک پروموشنل مہم شروع کی تھی، جو اتفاق سے 1980 کی گوانگجو جمہوریت نواز تحریک کی برسی کا دن تھا۔
اس تحریک کو اُس وقت کی فوجی حکومت نے ٹینکوں کے ذریعے بے رحمی سے کچل دیا تھا، جس میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ناقابلِ قبول مارکیٹنگ کا انجام
کمپنی نے مہم کے لیے اسٹین لیس اسٹیل کے کپ متعارف کروائے، جن کا نام ’ایس ایس ٹینک‘ رکھا گیا تھا، جبکہ اشتہاری نعرے میں ’اسے میز پر دھماکے سے رکھیں‘کے الفاظ استعمال کیے گئے۔
ناقدین نے اسے فوجی جبر اور 1987 میں تشدد سے جاں بحق ہونے والے طالب علم رہنما پارک جونگ چول کی یادوں کا تضحیک آمیز حوالہ قرار دیا۔
ہنگامی ٹریننگ اور عوامی معافی
ردعمل سامنے آتے ہی ’شین سیگہیے گروپ‘ نے بحران پر قابو پانے کے لیے 22 جون کو تمام اسٹورز بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ 1999 میں جنوبی کوریا میں داخلے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کمپنی نے اپنے تمام ملازمین کے لیے لازمی ٹریننگ کا اہتمام کیا ہے تاکہ سماجی حساسیت کو بہتر سمجھا جا سکے۔
انتظامیہ اور قیادت کا احتساب
گروپ چیئرمین چونگ یونگ جین سمیت تمام ایگزیکٹوز اور ہیڈکوارٹر کا عملہ خصوصی سیشنز میں حصہ لے گا۔
اس ٹریننگ میں سونگ کیونکوان یونیورسٹی کے پروفیسر جدید تاریخ پر لیکچر دیں گے، جبکہ سماجیات کے ماہرین انسانی حقوق اور تاریخ کو مارکیٹنگ میں شامل کرنے کے اصولوں پر روشنی ڈالیں گے۔
مستقبل کے لیے نئی پالیسی
کمپنی اب مارکیٹنگ مہمات کی منظوری کے لیے ایک نئی ’چیک لسٹ‘ متعارف کروا رہی ہے۔
اس میں تاریخی، سیاسی، عسکری اور پرتشدد واقعات کے علاوہ ہیٹ اسپیچ کے پہلوؤں کو بھی جانچا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسٹاربکس کوریا کے پاس 2024 کے اختتام تک 2000 سے زائد اسٹورز موجود ہیں اور سیلز میں نمایاں کمی کے بعد انتظامیہ سخت دباؤ کا شکار ہے۔
حالیہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ملٹی نیشنل برانڈز کے لیے مقامی تاریخ اور سیاسی جذبات کو نظر انداز کرنا کتنا مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔
کارپوریٹ منافع کے حصول کے دوران سماجی اقدار اور تاریخی حساسیت کو مقدم رکھنا کسی بھی کامیاب کاروبار کی بقا کے لیے اب ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔