اوپک بلس کے 7 رکن ممالک—جن میں سعودی عرب، روس، عراق، كويت، كازاخستان، الجزائر اور عُمان شامل ہیں—نے آج اتوار کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس منعقد کیا، جس میں عالمی تیل منڈی کی تازہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے بعد ساتوں ممالک نے فیصلہ کیا کہ اپریل 2023 میں اعلان کردہ اضافی رضاکارانہ پیداوار ایڈجسٹمنٹس کے مجموعی حجم میں سے 188 ہزار بیرل یومیہ کی سطح پر پیداوار میں تبدیلی کی جائے گی، جس کا اطلاق جون 2026 سے کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں
اوپک اور وزارتِ توانائی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اپریل 2023 کی رضاکارانہ ایڈجسٹمنٹس کو مارکیٹ کے حالات کے مطابق جزوی یا مکمل طور پر بتدریج واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ شریک ممالک تیل کی منڈی کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں گے اور مارکیٹ کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے محتاط حکمت عملی اور مکمل لچک برقرار رکھیں گے تاکہ ضرورت
پڑنے پر پیداوار میں اضافہ، کمی یا پچھلے فیصلوں کو واپس لینے جیسے اقدامات کیے جا سکیں، جن میں نومبر 2023 کے فیصلے بھی شامل ہیں۔
ساتوں ممالک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ اقدامات انہیں پیداوار میں اضافی مقدار کے ازالے compensation کے عمل کو تیز کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جنوری 2024 سے ہونے والی اضافی پیداوار کی مکمل تلافی کی جائے گی جبکہ اس عمل کی نگرانی مشترکہ وزارتی مانیٹرنگ کمیٹی کرے گی۔
مزید برآں، یہ طے پایا کہ مارکیٹ کی صورتحال، عملدرآمد اور پابندیوں کے جائزے کے لیے ماہانہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے، جبکہ اگلا اجلاس 7 جون 2026 کو ہوگا۔