دوسری جانب Goldman Sachs نے تیل کی قیمتوں کے اپنے اندازے بڑھاتے ہوئے چوتھی سہ ماہی کے لیے برینٹ کی قیمت 90 ڈالر اور WTI کی 83 ڈالر فی بیرل مقرر کی ہے، جس کی وجہ مشرق وسطیٰ میں پیداوار میں کمی بتائی گئی ہے۔
بینک کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاشی خطرات توقعات سے زیادہ ہیں، کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے، ریفائنڈ مصنوعات کی غیر معمولی مہنگائی اور ممکنہ قلت جیسے عوامل عالمی معیشت پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔
اسی دوران ایکسیوس کے مطابق ایران نے امریکا کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور فوجی کشیدگی ختم کرنے کے بدلے جوہری مذاکرات کو مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے۔
غیر یقینی برقرار: تیل کی قیمتوں نے پھر چھلانگ لگا دی
Overseas Post