ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں عالمی منڈیوں میں پیش آنے والے واقعات نے ایک مشتبہ اور سنگین بحث کو جنم دیا ہے۔
مزید پڑھیں
ماہرین اور ریگولیٹرز یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا تیل کی تجارت سے جڑے کچھ افراد حکومتی رازوں تک رسائی رکھتے ہیں۔
آبنائے ہرمز اور مشکوک تجارتی سودے
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کے اعلان سے محض 20 منٹ قبل مارکیٹ میں غیر معمولی ہلچل دیکھی گئی۔
لندن اسٹاک ایکسچینج کے ڈیٹا کے مطابق سرمایہ کاروں نے 760 ملین ڈالر مالیت کے برینٹ کروڈ کے 7,990 فیوچر کنٹریکٹس فروخت کیے۔
مارکیٹ میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ
اس اعلان کے چند ہی منٹوں میں خام تیل کی قیمتوں میں 11 فیصد تک کی گراوٹ دیکھی گئی۔ یہ صورتحال محض تجارتی پیش گوئی کے بجائے اندرونی معلومات کے غلط استعمال کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
قبل ازیں 7 اپریل کو بھی اسی طرح کا منظر سامنے آیا تھا، جب امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کے اعلان سے گھنٹوں قبل 950 ملین ڈالر کی سٹے بازی کی گئی۔
سیاسی فیصلوں کا براہ راست اثر
عالمی مارکیٹ میں تیل صرف طلب اور رسد کے قوانین پر نہیں چل رہا، بلکہ جنگی فیصلوں کا یرغمال بن چکا ہے۔
ٹرمپ کی پالیسیوں، ایران کے بیانات اور سفارتی لیکس نے اربوں ڈالر کے اتار چڑھاؤ کو محض چند منٹوں کا کھیل بنا دیا ہے۔ اس عمل نے مارکیٹ کی شفافیت پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تحقیقات اور حکومتی تشویش
امریکی سینیٹرز الزبتھ وارن اور شیلڈن نے حکومتی معلومات کے ممکنہ غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے’کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن‘ سے باضابطہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اسی طرح بلومبرگ اور وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹس کے مطابق ریگولیٹرز اب ان واقعات کے پیچھے موجود نیٹ ورک کی چھان بین کر رہے ہیں۔
اعتماد کا بحران
اگرچہ ابھی تک کسی اندرونی معلومات کے لیک ہونے کا حتمی ثبوت نہیں ملا، لیکن اس طرح کے مشتبہ واقعات کا تسلسل تشویشناک ہے۔
مارکیٹ کا بنیادی اصول معلومات تک یکساں رسائی ہے، تاہم جنگی فیصلوں کے پیش نظر ہونے والی یہ تجارت عالمی منڈی کے مجموعی اعتماد اور عدل پر ایک سوالیہ نشان ہے۔