خلیجی تیل پیداوار کے حوالے سے عالمی مالیاتی ادارے نے اہم اور حوصلہ افزا پیش گوئی کی ہے۔
مزید پڑھیں
گولڈ مین سیچز کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے باعث متاثر ہونے والی خلیجی ممالک کی تیل کی پیداوار آبنائے ہرمز کے مکمل طور پر کھلنے کے چند ماہ بعد ہی بڑی حد تک دوبارہ بحال ہو جائے گی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل 2026 تک خلیج میں یومیہ ایک کروڑ 45 لاکھ بیرل خام تیل کی پیداوار معطل رہی، جو جنگ سے پہلے کی مجموعی رسد کا تقریباً 57 فیصد بنتی ہے، تاہم اس بندش کی وجہ سے
عالمی منڈی میں بحران پیدا ہوا۔
اسی طرح ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی تیل پیداوار میں یہ تعطل آئل فیلڈز کو پہنچنے والے مادی نقصان کے بجائے زیادہ تر حفاظتی اقدامات اور اسٹاک مینجمنٹ کی وجہ سے آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنصیبات کو براہ راست نقصان نہ ہونے کی وجہ سے مستقبل میں پیداوار کی فوری بحالی کے امکانات موجود ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنگ سے قبل عالمی سطح پر تیل کی کل ترسیل کا پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا، لہٰذا اس اہم بحری گزرگاہ کی طویل بندش کے عالمی توانائی کی منڈیوں پر انتہائی گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
گولڈ مین سیچز کے مطابق اگر توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے رُک جائیں اور آبنائے ہرمز محفوظ طریقے سے کھل جائے تو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی اضافی پیداواری صلاحیت کی بدولت تیل کی عالمی سپلائی تیزی سے بحال ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بحالی کی رفتار لاجسٹکس اور آئل فیلڈز کی کارکردگی پر منحصر ہوگی کیونکہ خلیج میں خالی ٹینکرز کی گنجائش 130 ملین بیرل یعنی 50 فیصد تک کم ہو چکی ہے، جو برآمدات میں بڑی رکاوٹ بنے گی۔
آئل فیلڈز کے کنووں کی طویل بندش سے تیل کے بہاؤ میں کمی کا خطرہ ہے، خاص طور پر کم دباؤ والے ذخائر میں مکمل بحالی سے قبل مرمت کی ضرورت ہوگی، اسی لیے پیداوار میں تعطل جتنا طویل ہوگا بحالی اتنی ہی سست ہوگی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ خلیجی تیل پیداوار کے حوالے سے مختلف ممالک میں بحالی کے امکانات مختلف ہیں۔
ایک طرف ایران اور عراق کو بنیادی ڈھانچے اور پابندیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے، وہیں سعودی عرب دیگر ممالک کے مقابلے میں اپنی تیل کی پیداوار بہت تیزی سے بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بیرونی اداروں کے تخمینوں کے مطابق خلیجی ممالک 3 ماہ میں اپنی کھوئی ہوئی پیداوار کا 70 فیصد اور 6 ماہ میں 88 فیصد تک بحال کر سکتے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز کی طویل بندش سپلائی کو مستقل نقصان پہنچا سکتی ہے۔